’دہشتگردوں کو نیست و نابود کر دیں گے‘

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے وولگوگراد میں ہونے والے حالیہ حملوں کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں کو مکمل طور پر فنا کر دیا جائےگا۔
اتوار اور سوموار کو وولگوگراد میں ہونے والے دو خود کش حملوں میں 34 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔
صدر پوتن نے کہا تھا کہ وہ دہشتگردوں کو ’نیست و نابود‘ کر دیں گے اور ان کی مکمل تباہی تک جنگ جاری رکھیں گے۔
روسی صدر نے شہر کے دورے کے موقعے پر کہا: ’مجرم جو بھی کہیں، لیکن شہریوں کے خلاف کیے گئے جرائم کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘
<link type="page"><caption> وولگوگراد: دو دن میں دوسرا خودکش حملہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/12/131230_russia_volgograd_blast_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
وولگوگراد میں ریلوے سٹیشن اور بازار کے قریب ہونے والے بم حملوں میں 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حملوں کے بعد علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور ہزاروں اہل کاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
اب تک ان حملوں کی ذمے داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد سوچی میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرز کے حملے اس سے قبل شمالی کوہِ قاف میں سرگرم اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے کیے جا چکے ہیں۔
دس لاکھ کی آبادی کا شہر وولگوگراد جنگ عظیم دوم میں سٹالن گراڈ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ایک حملے میں ایک مرد خود کش حملہ آور نے خود کو بارودی مواد سے اڑایا۔ اس کے جسم کی باقیات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

روس کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں دھماکوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
وولگوگراڈ ماسکو سے نو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں ماضی میں بھی شدت پسند کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ رواں برس اکتوبر میں بھی یہاں ایک خاتون خودکش بمبار نے ایک بس میں دھماکہ کیا تھا جس میں چھ افراد مارے گئے تھے۔
رواں سال جولائی میں چیچن جنگجوؤں کے سربراہ نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ سرمائی اولمپکس سے قبل زیادہ سے زیادہ حملے کیے جائیں۔







