مصر: الجزیرہ ٹی وی کے صحافی گرفتار

الجزیرہ عربی کے علاوہ انگریزی میں بھی خبریں نشر کرتا ہے
،تصویر کا کیپشنالجزیرہ عربی کے علاوہ انگریزی میں بھی خبریں نشر کرتا ہے

معروف ٹی وی نیٹ ورک الجزیرہ کی انگریزی ٹیم کے تین ارکان بشمول دو صحافیوں کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مصر کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ الجزیرہ کی ٹیم نے اخوان المسلمین کی تنظیم کے ارکان کے ساتھ غیر قانونی ملاقاتیں کی ہیں۔

واضح رہے کہ مصر میں اخوان المسلمین کو گذشتہ ہفتے ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چینل نے ایسی خبریں نشر کیں جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا اور اسی لیے ٹیم کے کیمرے اور ریکارڈنگز بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔

گرفتار کیے جانے والے صحافی الجزیرہ کی انگریزی سروس کے رکن ہیں۔ ان میں بی بی سی کے سابق نامہ نگار پیٹر گریسٹے بھی شامل ہیں۔

مصر کی عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کو گذشتہ ہفتے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے
،تصویر کا کیپشنمصر کی عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کو گذشتہ ہفتے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے

اطلاعات کے مطابق الجزیرہ انگریزی کے قاہرہ میں بیورو چیف محمد فاضل فہمی اور کیمرہ مین محمد فوزی بھی حراست میں لیے گئے ہیں۔

مصر میں رواں سال جولائی میں فوج نے اخوان المسلمین کے رہنما محمد مرسي کو صدر کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ اس کے بعد ان کی تنظیم اخوان المسلمین نے ملک گیر پیمانے پر ان کی برطرفی کی مخالفت کی جو کسی نہ کسی شکل میں ہنوز جاری ہے۔

اخوان المسلمین نے مصر میں آنے والی سیاسی تبدیلی کے بعد ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس کے امیدوار محمد مرسی نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا۔

اقتدار سے علیحدگی کے بعد حکومتی کریک ڈاؤن میں اخوان المسلمین کے سینکڑوں کارکنوں کو ہلاک اور سینکڑوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

فوج کی حمایت سے معرض وجود میں آنے والی مصر کی نئی حکومت نے نہ صرف اخوان المسلمین تنظیم پر پابندی عائد کی بلکہ حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ انہیں دانستہ طور پر نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔