لبنان: سابق وزیر محمد شطح کی تدفین کی تیاریاں

محمد شطح سابق لبنانی وزیرِ اعظم سعد الحریری کے مشیر تھے
،تصویر کا کیپشنمحمد شطح سابق لبنانی وزیرِ اعظم سعد الحریری کے مشیر تھے

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزبِ مخالف کے رہنما اور سابق وزیر محمد شطح کی تدفین کی تیاریاں جاری ہیں۔

لبنان کے سابق وزیر محمد شطح کی تدفین اتوار کو داارلحکومت بیروت میں ہوگی۔

محمد شطح سابق لبنانی وزیرِ اعظم سعد الحریری کے مشیر تھےاور انھیں شام کے صدر بشار الاسد اور ان کی حامی جماعت حزب اللہ کے سخت ناقد کے طور پر جانا جاتا تھا۔

اطلاعات کے مطابق محمد شطح کو شہید چوک والی مسجد کے پاس سعد حریری کے والد اور سابق وزیر اعظم رفیق حریری کی قبر کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔

ان حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ کم از کم 50 افراد زخمی ہو گئے تھے
،تصویر کا کیپشنان حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ کم از کم 50 افراد زخمی ہو گئے تھے

بیروت میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق محمد شطح کے حامیوں نے جن میں عیسائي اور مسلمان دونوں شامل ہیں کہا ہے کہ ان کی تدفین بڑے پیمانے پر ہوگی تاکہ اس کے ذریعے ایک سیاسی پیغام جائے۔

خیال رہے کہ لبنان کے سابق وزیر محمد شطح دارالحکومت بیروت میں جمعہ کو ہونے والے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ بم حملہ پارلیمان ہاؤس اور دیگر سرکاری عمارتوں کے قریب کیا گیا تھا۔

ان حملوں میں چار افراد ہلاک جبکہ کم از کم 50 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

ابھی تک کسی بھی گروہ نے جمعہ کو ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم سعد حریری نے حزب اللہ پر ان حملوں کا الزام عائد کیاہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اس بم دھماکے کو بہیمانہ جرائم سے تعبیر کیا ہے جو ملک کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔

مبصرین کے مطابق شام میں جاری لڑائی کی وجہ سے لبنان میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک کئی حملے بھی ہو چکے ہیں۔

لبنان کے سُنی مسلمان جنگجو شام میں حکومت مخالف باغیوں کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں جبکہ باغیوں کے بعض گروپ القاعدہ سے بھی منسلک ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2005 میں رفیق حریری کی موت بھی ایک بم دھماکے میں ہوئی تھی۔

شام کے صدر بشارالاسد شیعہ اسلام کے علوی فرقے سے ہیں۔ اسی لیے لبنان کی شیعہ عسکریت پسند جماعت حزب اللہ نے اپنے جنگجو شامی حکومت کی مدد کے لیے بھیجے ہیں۔

ایران بھی حزب اللہ کا حامی ہے اور اس کے سفارتخانے کو بھی گذشتہ ماہ بیروت میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

رواں ماہ ہی حزب اللہ کے ایک سینیئر کمانڈر کو بیروت کے نواح میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔