ہم سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے: ترک فوج

ترکی میں بدعنوانی سکینڈل سامنے آنے سے پیدا ہونے والے بحران کے دوران ملک کی فوج نےکہا ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
بدعنوانی کے سکینڈل سے پیدا ہونے والی بحران کی وجہ سے تین ترک وزیروں کے استعفے کے بعد وزیرِ اعظم رجب طیب اردوغان اپنی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
ترکی کی فوج کی طرف سے بیان اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعظم کے ایک اتحادی نے میڈیا میں یہ خیال ظاہر کیا کہ بدعنوانی کا سکینڈل ملک میں فوجی بغاوت کروانے کی سازش کے لیے سامنے لایاگیا۔
<link type="page"><caption> بدعنوانی کے الزامات کے بعد نئی ترک کابینہ کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/12/131225_turkey_ministers_resign_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
فوجی بیان کے مطابق’ترکی کی مسلح افواج کسی سیاسی مباحثے میں نہیں پڑنا چاہتیں۔دوسری جانب مسلح افواج اپنی پیشہ وارانہ پہچان اور اپنے اراکین کی قانونی پوزیشن کے حوالے سے حالات کا جائزہ لیتی رہے گی۔‘
ترکی میں فوجی بغاوتوں کی تاریخ رہی ہے لیکن تقربیاً ایک دہائی تک اقتدار میں رہنے والے رجب طیب اردوغان کے دور میں فوج کی طاقت میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
ملک میں جاری بحران کی وجہ سے ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر ڈالر کے مقابلے میں بہت گر گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا ملک کی سب سے بڑی انتظامی عدالت نے حکومت کے اس حکم نامے کو روک دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس تحقیقات شروع کرنے سے پہلے اپنے سربراہان کو مطلع کریں گے۔
حکومت کی طرف سےگذشتہ ہفتے یہ حکم اس وقت جاری کیا گیا جب پولیس نے بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں بڑے رہنماؤں پر ہاتھ ڈالا۔
انتظامی عدالت ’ کونسل آف سٹیٹ ‘کی طرف سے جمعے کو حکومتی حکم نامے کو روکنے کے عمل سے وزیرِاعظم طیب اردوغان کی جانب سے اس سکینڈل کے سیاسی اثرات کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔
کابینہ سے مستعفٰی ہونے والوں میں ماحولیات کے سابق وزیر ادوغان بیراکتار بھی شامل تھے جنھوں نے وزیرِاعظم اردوغان سے بھی مستعفٰی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔
حزبِ اختلاف کے قریبی اخبار حریت نے خبر دی ہے کہ اردوغان کے بیٹے بلال سے منسلک ایک خیراتی ادارے کی بھی تحقیتات کی جا رہی ہیں۔
پولیس غیر قانونی طریقے سے ایران کو رقم کی فراہمی اور تعمیراتی منصوبوں میں رشوت کے الزامات کی تفتیش کر رہی ہے۔
بیراکتار، وزیرِ معیشت ظفر چالیان اور وزیرِ داخلہ معمر گولیار نے اس وقت استعفیٰ دیا جب ان کے بیٹوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔
تینوں نے کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کیا ہے۔
تقربیاً دس دن پہلے معتبر افراد کو حراست لینے کے بعد سے کئی عدالتی اور پولیس اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔
ترکی میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو حراست میں لینے اور برطرف کرنے کے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمران جماعت اے کے پارٹی کے اندر وزیرِ اعظم طیب اردوگان کے حامیوں اور امریکہ میں جلا وطن مذہبی عالم فتح اللہ گولن کے حامیوں کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ فتح اللہ گولن کی حزمت تحریک کے اراکین پولیس جیسے قومی اداروں، عدلیہ اور اے کے پارٹی میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔
فتح اللہ گولن نے حالیہ تحقیقات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔







