روس: پُسی رائٹ کی رکن ماریا کی قید سے رہائی

رہائی کے بعد ماریا کو ایک کار میں بٹھا کر روانہ کر دیا گیا۔ انھیں مذہبی کے خلاف نفرت کے اظہار کے لیے دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنرہائی کے بعد ماریا کو ایک کار میں بٹھا کر روانہ کر دیا گیا۔ انھیں مذہبی کے خلاف نفرت کے اظہار کے لیے دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی

روسی میوزک بینڈ پُسی رائٹ کی جیل میں قیدی رکن ماریا الیوخینا کو وقت سے پہلے ایک معافی نامے کے تحت رہا کردیا گیا ہے۔

ماریا نے ایک روسی ٹی وی چینل کو بتایا کہ معافی نامہ محض ایک دکھاوا تھا اس سے بہتر تو تھا کہ وہ قید میں ہوتیں۔

<link type="page"><caption> چرچ میں ہلڑ بازی، پسی رائٹ مجرم قرار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/08/120817_pussy_riot_conviction_ha.shtml" platform="highweb"/></link>

ان کی ساتھی قیدی اور بینڈ کی دوسری رکن نادزدا تولوکونیکووا کی بھی جلد رہائی کی توقع ہے۔

ماریا اور تولوکونیکووا کو ماسکو کی ایک عدالت نے اگست میں چرچ میں حکومت کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا گیت گانے کے الزام میں دو برس قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ خواتین ہلڑ بازی کی مرتکب ہوئیں جس کی بنیاد مذہب سے نفرت تھی۔

عدالت کی طرف سے دونوں خواتین کو دو دو سال کی قید سزا دیے جانے کے فیصلے کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایاگیا تھا۔

ماریا کو پیر کی صبح ماسکو کے مشرق میں نیزنی نوگوراڈ میں واقع جیل سے رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد وہ سیدھی انسانی حقوق کے گروپ کمیٹی اگینسٹ ٹارچر کے دفتر گئیں جہاں انھوں نے ٹیلیفیون کے ذریعے انٹرویو دیا۔

ایک آزاد ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ماریا نے کہا کہ صدر پوتن سے متعلق ان کے خیالات تبدیل نہیں ہوئے ’میں نہیں سمجھتی معافی انسانیت کی خاطر دی گئی ہے بلکہ یہ سستی شہرت کے لیے ایک قدم تھا۔ اس کے تحت بہت کم لوگوں کو معا ف کیا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر مجھے اختیار ہوتا تو میں اس معافی سے مستفید ہونے سے انکار کرتی۔‘

روسی میڈیا نے ماریا الیوخینا کے ایک دوست کے حوالے سے بتایا کہ وہ اپنی جیل کی مدت پوری کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ اپنے ساتھی قیدیوں کی سکیورٹی کے لیے پریشان تھیں اور وہ ان کی حفاظت کرنا چاہتی تھیں۔

نادزدا تولوکونیکووا کے شوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ’یہ رہائی صدر پوتن کی ساکھ بہتر کرنے کی کوشش تھی۔‘

انھوں نے پُسی رائٹ بینڈ کے قید ارکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’دو سالوں میں پوتن اقتدار کے خلاف جدوجہد کو مزید سخت کرنے کے لیے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ ہمارے ملک کے حالات کو بہتر کرنے کا یہ واحد طریقہ ہے۔‘

نادزدا تولوکونیکووا کے والد اینڈری نے گذشتہ ہفتے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ایسے وقت میں خواتین کی رہائی’مرکزی حکام کی طرف سے ایک مشکوک کھیل ہے۔‘

ان خواتین کی سزا مارچ سنہ 2014 میں ختم ہو رہی تھی لیکن روس کی پارلیمان کی طرف سے معافی کے قانون پر دستخط کے بعد انھیں گذشتہ ہفتے ہی سے معلوم تھا کہ وہ ضرور رہا ہوں گی۔

اس قانون کے تحت تقریباً 20 ہزار قیدیوں کو جن میں بچے، ضعیف، سابق فوجی، حاملہ خواتین اور مائیں شامل ہیں، رہا کیا جائے گا۔

ماریا اور تولوکونیکووا کو اس قانون کے تحت اس لیے رہا کیا جا رہا ہے کہ ان کے چھوٹے بچے ہیں۔

اس معافی نامے کو بحیرۂ اسود کے سیاحتی مقام سوچی میں ہونے والے سرمائی اولمپیکس کو تنازعات سے بچانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

گذشتہ جمعے کو تیل کا کاروبار کرنے والی بڑی شخصیت میخایل خودوسکی کو بھی ٹیکس فراڈ کے الزامات کے تحت دس سال جیل میں گزارنے کے بعد رہا کیا گیا۔ وہ ہمیشہ اصرار کرتے تھے کہ ان کے خلاف کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے۔

گرین پیس شپ پر گرفتار کیے جانے والے 30 افراد کے خلاف الزامات کو بھی اس ہفتے ختم کرنے کا امکان ہے۔ ان افراد میں زیادہ تر غیر ملکی کارکن شامل ہیں۔