ایڈز کے خلاف جنگ کے علم بردار

اگرچہ اول اول ایچ آئی وی/ ایڈز کے بارے میں نیلسن منڈیلا کا رویہ نیم دلانہ تھا، لیکن وہ بعد میں اس بیماری کے خلاف جنگ کے سرگرم داعی بن گئے۔
جب فروری 1990 میں منڈیلا کو وکٹر ورسٹر جیل سے رہا کیا گیا تو ایچ آئی وی/ ایڈز کے سائے ابھی جنوبی افریقہ پر زیادہ نہیں پھیلے تھے۔
چار سال بعد جب منڈیلا صدر بنے تو اس وقت دنیا کے دوسرے رہنماؤں کی طرح انھیں بھی بڑے چیلنج درپیش تھے۔ اس لیے وہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے سے قاصر رہے اور انھوں نے ایڈز کے مریضوں کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا۔
لیکن 1999 میں عہدۂ صدارت چھوڑنے کے بعد منڈیلا نے ایچ آئی وی/ ایڈز، محفوظ جنسی تعلقات، اور مریض کے لیے زیادہ بہتر علاج پر زیادہ تحقیق کے لیے جدوجہد شروع کر دی۔
تاہم بہت سے جنوبی افریقی شہری اس مرض کا کسی کے سامنے ذکر کرنے سے کتراتے تھے۔
2005 میں منڈیلا نے یہ کہہ کر قوم کو چونکا دیا کہ ان کے صاحبزادے مکاگاتھو ایڈز کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس مرض کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوگئے۔
انھوں نے لوگوں پر زور دینا شروع کر دیا کہ وہ ایچ آئی وی/ ایڈز کے بارے میں زباں بندی ختم کریں ’تاکہ یہ ایک عام بیماری لگنے لگے۔‘
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں ایچ آئی وی کے انفیکشن کی شرح 1990 میں ایک فیصد تھی، جو 2007 میں بڑھ کر 20 فیصد ہو گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اے این سی میں تنازع
اس وقت جنوبی افریقہ میں 55 لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، یہ تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔
اس وبا کے کئی اسباب ہیں۔ بنیادی سبب غربت کے علاوہ معاشی نقلِ مکانی، عورتوں کی ناگفتہ بہ حالت اور غیر محفوظ جنسی تعلقات نے بھی اس مرض کے برق رفتار پھیلاؤ میں حصہ ڈالا ہے۔
اقتدار میں آنے کے بعد سے منڈیلا کی جماعت ایفریکن نیشنل کانگریس یا اے این سی ایڈز کی وجوہات اور علاج کے بارے میں تنازعات کا شکار ہو گئی تھی۔
منڈیلا کے جانشین تھابو ایمبیکی نے بطورِ صدر کھلم کھلا سائنس دانوں کے اس نظریے پر سوال اٹھایا کہ کیا واقعی ایڈز وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ ایمبیکی نے بہت سے لوگوں کو اس وقت برہم کر دیا جب انھوں نے ایک امریکی صحافی کو بتایا کہ ’ذاتی طور پر میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو ایڈز کے ہاتھوں ہلاک ہوا ہو،‘ اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص سے بھی واقف نہیں ہوں جو ایڈز کے وائرس سے متاثر ہو۔
ایمبیکی کے حکومت کے دوران جنوبی افریقہ میں ایچ آئی وی کے خلاف کام کرنے والی ادویات کے لیے رقوم فراہم کرنے میں بڑی حد تک ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا۔
تاہم اب صدر جیکب زوما کے دور میں صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے۔
ایڈز سے نہ صرف انسانی مصائب میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ اس کا معاشی اثر بھی بے حد سنگین رہا ہے اور اس نے جنوبی افریقہ کی شرحِ نمو پر بہت برا اثر ڈالا ہے۔
لیکن اپنے دورِ حکومت میں ایڈز کے مسئلے کو پسِ پشت ڈالنے اور معیشت اور نسلی ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرنے کے بعد منڈیلا نے 1999 میں مسندِ صدارت چھوڑنے کے بعد ایڈز کے خلاف بڑی سرگرمی سے مہم شروع کر دی۔
سنہ 2000 میں ایڈز کے عالمی دن پر انھوں نے ایک سخت پیغام بھیجا، جس میں کہا گیا تھا، ’ہمارے ملک کو ایڈز کے ہاتھوں ایک ناقابلِ بیان تباہی کا سامنا ہے۔‘
’ہمیں ایک خاموش اور نادیدہ دشمن کا سامنا ہے جو ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے‘۔
’اپنے جیون ساتھی تک محدود رہیں اور کنڈوم استعمال کریں ۔۔۔ بچوں کو پیار، ہنسی اور امن دیں، نہ کہ ایڈز۔‘
منڈیلا نے کہا کہ ملک کو جنسی تعلقات سے پرہیز، کنڈوم کے استعمال، جلد علاج، ماہرِ نفسیات سے مشورے، اور ادویات استعمال کر کے ماں سے بچے تک وائرس کی منتقلی کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہییے۔
ان کے یہ الفاظ صدر ایمبیکی اور اے این سے کے دوسرے رہنماؤں کے لیے براہِ راست چیلنج کا درجہ رکھتے تھے، لیکن ان سے ایڈز پر کام کرنے والے کارکنوں کی بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔
نومبر 2003 میں منڈیلا اور ان کی قائم کردہ منڈیلا فاؤنڈیشن نے مہم تیز تر کر دی، اور ایچ آئی وی/ ایڈز کے خلاف چندہ اکٹھا کرنے کی مہم شروع کر دی، جس کا نام ان کے قیدی نمبر پر رکھا گیا تھا یعنی 46664۔
انھوں نے ایڈز کے خلاف جنگ کو نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کے مترادف قرار دیا۔
بیانسی، یوسو این ڈور ڈیو سٹیورٹ جیسے پاپ سٹارز نے اس مہم کی حمایت کی۔ کیپ ٹاؤن میں ایک راک کنسرٹ ہوا جسے دنیا بھر میں دو ارب کے قریب لوگوں نے دیکھا۔
منڈیلا کی کوششوں سے حاصل ہونے والی رقم کو تحقیق کے منصوبوں میں لگایا گیا اور ان سے جنوبی افریقہ میں ایڈز کے مریضوں کی عملی مدد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
جولائی میں بنکاک میں ہونے والی عالمی ایڈز کانفرنس میں انھوں نے ایچ آئی وی/ ایڈز کے لیے زیادہ رقوم فراہم کرنے اور اس مسئلے سے لڑنے کے لیے مضبوط قیادت پر زور دیا۔
سیاسی شخصیت کے علاوہ ایڈز کے لیے ان کی علم برداری نے ایچ آئی وی / ایڈز کے مسئلے کو منظرِ عام پر رکھنے اور اس کا شکار افراد کے لیے امید کی شمع روشن کی ہے۔







