’پروازوں کی جنگی طیاروں سے نگرانی کی گئی‘

نئی حد بندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چین نے کہا تھا کہ اس علاقے پر سے گزرنے والے جہازوں کو اپنے فلائٹ پلان کی پیشگی اطلاع دینی ہوگی
،تصویر کا کیپشننئی حد بندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چین نے کہا تھا کہ اس علاقے پر سے گزرنے والے جہازوں کو اپنے فلائٹ پلان کی پیشگی اطلاع دینی ہوگی

چین کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کو بحیرہِ مشرقی چین میں امریکی اور جاپانی جہازوں کی پروازوں کی نگرانی کے لیے لڑاکا طیارے بھیجے تھے۔ یاد رہے کہ چین نے چند روز قبل ہی اس متنازع علاقے میں نئی دفاعی حد بندیاں کیں تھیں جنہیں امریکہ اور جاپان دونوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ان حد بندیوں میں چند ایسے علاقے ہیں جن پر چین، جاپان، تائیوان اور جنوبی کوریا ملکیت کے دعوے کرتے ہیں۔

نئی حد بندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چین نے کہا تھا کہ اس علاقے پر سے گزرنے والے جہازوں کو اپنے فلائٹ پلان کی پیشگی اطلاع دینی ہوگی اور اپنی شناخت کروانی ہوگی ورنہ ان کے خلاف ’ہنگامی دفاعی اقدامات‘ کیے جائیں گے۔

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ ان حد بندیوں کو قبول نہیں کرتے اور ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں جنگی جہازوں کی پروازیں کی ہیں۔

جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ان کے طیارے نے بحیرۂ مشرقی چین کے حدود میں ’نگرانی کرنے کی غرض‘ سے پرواز کی۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس کے طیاروں نے بھی اس علاقے میں پروازیں کی ہیں۔

ان نئی دفاعی حدبندیوں کی امریکہ نے شدید تنقید کی تھی اور امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ یہ علاقائی توازن کو خراب کرنے کی یک طرفہ کوشش ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اور جاپانی پروازوں کی لڑاکا طیاروں سے نگرانی کی گئی
،تصویر کا کیپشنچینی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی اور جاپانی پروازوں کی لڑاکا طیاروں سے نگرانی کی گئی

جمعرات کو چین کی ریاستی خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ چین نے بحیرۂ مشرقی چین کی حدود میں قائم کی گئی ’فضائی دفاعی حدود‘ میں جنگی طیارے بھجوائے ہیں۔

اس کے بعد چینی فضائیہ کے ترجمان کرنل شن جنک نے بتایا کہ جمعے کی صبح دو امریکی طیاروں اور دس جاپانی طیاروں کی نگرانی کے لیے چین نے لڑاکا طیارے بھیجے تھے۔

ریاستی میڈیا نے فضائیہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ چینی طیاروں نے بیرونی طیاروں کی پرواز کی نگرانی کی اور ان کی شناخت کی۔

جاپانی حکام نے اپنی پروازوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ خطے میں اپنی عمومی کارروائیاں پہلے کی طرح جاری رکھیں گے۔