’سی آئی اے ڈرون کا اختیار چھوڑنے کو تیار نہیں‘

امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما کی طرف سے ڈرون حملوں کے بارے میں حکمت عملی تبدیل کرنے کے چھ ماہ بعد حملوں کی تعداد میں واضح کمی ہوئی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ اہداف کی نشاندہی میں سخت قواعد و ضوابط کا اطلاق ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوباما نے ڈرون حملوں کی مہم کو شفاف رکھنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود مہم پر انتہائی رازداری کا دبیز غلاف چھڑا ہوا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ڈیموکریٹس کی قیادت میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے پانچ نومبر کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ڈرون حملوں میں شہریوں اور دہشت گردوں کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار پیش کرے۔ حکومت آج تک یہ اعداد و شمار منظر عام پر نہیں لائی ہے۔
اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ڈرون حملوں کا ہدف اگر کوئی امریکی شہری ہو یا اس صورت میں کہ جس ملک کی سرحدی حددو میں اسے نشانہ بنایا جا رہا ہو وہاں کا شہری نہ ہو، تو وائٹ ہاؤس کی طرف سے منظوری سے قبل اضافی خفیہ معلومات حاصل کر لی جائیں۔
2002 سے اب تک ڈرون حملوں میں پانچ امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس کمیٹی کے ایک رکن سینیٹر ران وائڈن نے کہا کہ امریکی شہریوں کو بنیادی حقائق کا علم ہونا چاہیے اور اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو اس سے انھیں آگاہ کیا جانا چاہیے اور انھیں ان قواعدہ اور ضوابط کے بارے میں بھی پتہ ہونا چاہیے جن کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث کسی امریکی شہری کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
یہ مجوزہ شقیں ایک انٹیلی جنس بل کا حصہ ہیں اور شاید منظور نہ ہو سکیں۔ کمیٹی میں شامل رپبلکن اراکین نے اس بل کی تو حمایت کی لیکن ڈرون سے متعلق شقوں کی مخالفت کی۔ رپبلکن جماعت کے سرکردہ ارکان بھی ان شقوں کے حق میں نہیں تھے۔
وائٹ ہاؤس نے اس بارے میں ابھی کوئی موقف اختیار نہیں کیا۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کی ترجمان کیٹلن ہائڈن نے کہا کہ ڈرون کے بارے میں انتظامیہ کی پالیسی پہلے ہی شفاف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ صدر اوباما نے اس طرح کی کارروائیاں میں زیادہ سے زیادہ شفافیت برتنے کا وعدہ کیا تھا اور انتظامیہ جتنی ممکن ہو گی اتنی معلومات شہریوں کو فراہم کرتی رہے گی۔
اس سال مئی میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں صدر اوباما نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ انھوں نے ایک ایسی پالیسی دستاویز کی منظور دی ہے جس کے تحت ڈرون حملوں کے لیے نئے معیار وضع کیے گئے ہیں۔
صدر اوباما نے کہا کہ سی آئی اے کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ مجوزہ ہدف سے امریکی شہریوں کو مسلسل اور حقیقی خطرہ ہے بجائے اس کے کہ وہ یہ کہیں کہ اس سے کافی خطرہ ہے جیسے کہ ماضی کی پالیسی کے تحت کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ کسی حملے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جاتی جب تک یہ سو فیصد یقین نہ کر لیا جائے کہ اس میں شہری ہلاک نہیں ہوں گے۔
مئی میں نئے قواعد سے پہلے ہی ڈرون حملوں میں کمی واقع ہو گئی تھی لیکن نئے قواعد کے اطلاق کے بعد ان میں مزید کمی ہو گی۔
امریکی جریدے ’لانگ وار جرنل‘ نے جو ڈرون حملوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، کہا ہے کہ اس سال یمن میں 22 ڈرون حملے ہوئے جب کہ گذشتہ سال 42 حملے کیے گئے تھے۔
پاکستان میں اس جریدے کے مطابق اس سال 25 ڈرون حملے ہوئے جب کہ گذشتہ سال 46 حملے ہوئے تھے اور 2010 میں جب یہ سلسلہ اپنے عروج پر تھا تو 117 حملے ہوئے تھے۔ صومالیہ میں اس برس صرف ایک ڈرون حملہ ہوا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق ڈرون حملوں میں نسبتاً کم ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن انتظامیہ نے اس بارے میں اعداد و شمار دینے سے انکار کر دیا۔ لانگ وار جرنل کے مطابق اس برس پاکستان میں ڈرون حملوں میں 11 اور یمن میں دو شہری ہلاک ہوئے۔
اس سال جون میں ڈرون سے داغے گئے ایک میزائل سے یمن میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں القاعدہ کا ایک کمانڈر سوار تھا۔ سی آئی اے کے اہلکاروں کو اس کا پتہ نہیں چلا کہ اس گاڑی میں کمانڈر کا چھوٹا بھائی بھی موجود تھا۔ سی آئی اے نے بعد میں اس لڑکے کی عمر چھ سے 13 سال بتائی۔
سی آئی اے نے اس بارے میں کانگریس کو خفیہ بریفنگ دی لیکن سرِ عام اس کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا۔
ڈرون حملوں میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب دہشت گردوں کے بہت سے سرکردہ رہنماؤں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ پاکستان میں القاعدہ گروہ کے اہم اور سرکردہ رہنما مارے جا چکے ہیں اور اب ان کی باقیات رہ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نومبر کی یکم تاریخ کو پاکستان میں ہونے والا ڈرون حملہ جس میں تحریک طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ محسود کو نشانہ بنایا گیا، ثابت کرتا ہے کہ ڈرون اب بھی دہشت گردی کے خلاف سب سے کارگر ہتھیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکیم اللہ محسود سنہ 2009 میں افغانستان کے صوبے خوست میں سی آئی اے کے سات اہلکاروں کی ہلاکت کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
اس سال مئی میں وائٹ ہاؤس سے اس قسم کے اشارے دیے گئےتھے کہ ڈرون آپریشن کا اختیار سی آئی اے سے لے کر امریکی وزارتِ دفاع کو منتقل کر دیا جائے۔
امریکی وزارتِ دفاع سی آئی اے سے مختلف قوانین کے تحت کام کرتی ہے اور اس بارے میں عوام کو زیادہ معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن یہ معاملہ بعض سرکاری وجوہات کی بنا پر پائے تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
پاکستان کی حد تک سی آئی اے ڈرون کارروائیوں کا اختیار وزارتِ دفاع کو دینے کو تیار نہیں ہے جہاں حکومت امریکی فوج کی کارروائیوں کی ضرور مخالفت کرے گی۔ انسداد دہشت گردی کے آپریشنز سے وابستہ کچھ سرکاری اہلکاروں کا خیال ہے کہ وزارتِ دفاع اس سرعت سے ڈرون حملے نہیں کر سکے گی جس طرح سی آئی اے کرتی رہی ہے۔







