لیبیا سے تعلق رکھنے والے انس اللیبی کو امریکہ پہنچا دیا گیا

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے انس اللیبی کے سر پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا تھا
،تصویر کا کیپشنامریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے انس اللیبی کے سر پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا تھا

لیبیا سے تعلق رکھنے والے انس اللیبی کو نیویارک پہنچا دیا گیا ہے جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ انھیں اس ماہ کے آغاز میں امریکی فوجیوں نے چھاپہ مار کر طرابلس سےگرفتار کر لیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اللیبی کو ایک بحری جہاز میں امریکہ لے جایا گیا اور راستے میں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

انس اللیبی پر الزام ہے کہ وہ القاعدہ سے منسلک ہیں، اور 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکہ سفارت خانوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہیں۔

نیویارک کی گرینڈ جیوری نے 2000 میں اللیبی پر فردِ جرم عائد کی تھی۔

نیویارک کے ایک ضلعے کے اٹارنی پریت بھرارا نے ایک بیان میں کہا کہ اللیبی کو اس اختتامِ ہفتہ امریکہ منتقل کیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملزم کو منگل کے دن ایک عدالتی افسر کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے پانچ اکتوبر کو اللیبی کی گرفتاری کے لیے مارے جانے والے چھاپے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اللیبی ’قانونی اور جائز ہدف تھے۔‘

لیبیا نے امریکہ سے اس چھاپے کی وضاحت طلب کی ہے۔

اللیبی کے بیٹوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں لیبیا کے حکام نے اغوا کیا ہے، تاہم لیبیا کی حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔

کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے حملوں میں 220 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

انس اللیبی امریکی ایف بی آئی کی مطلوب ترین ملزموں کی فہرست میں ایک عشرے سے شامل تھے اور ان کی گرفتاری پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا۔