’اسامہ کو پکڑو‘ : نیویارک میں بے چارے سکھ پروفیسر کی شامت

نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ میں سکھوں پر متعدد حملے ہوے ہیں
،تصویر کا کیپشننائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ میں سکھوں پر متعدد حملے ہوے ہیں

نیو یارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر پرابجوت سنگھ پر نوجوانوں کے ایک گروہ نے ’اسامہ‘ اور ’دہشگرد‘ کہتے ہوئے حملہ کر دیا جس میں پروفیسر شدید زخمی ہو گئے۔

ڈاکٹر پرابجوت سنگھ پر حملہ سنیچر کی رات اس وقت ہوا جب وہ نیویارک کے علاقے ہارلم کی لینوکس ایونیو پر رات آٹھ بجےچہل قدمی کر رہے تھے

ڈاکٹر پرابجوت سنگھ نے این بی سی فور نیویارک کو بتایا کہ جب وہ واک کر رہے تھے تو تقریباً ایک درجن سائیکل سوار نوجوانوں نے ’اسامہ کو پکڑو،‘ ’دہشتگرد کو پکڑو‘ کہتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا۔

ڈاکٹر پرابجوت سنگھ نے بتایا کہ ایک حملہ آور نے ان کی ڈاڑھی نوچی اور منہ پر مکے مارے۔’ میں نے وہاں سے بھاگنا شروع کیا۔ لیکن حملہ آوروں نے میرا پیچھا جاری رکھا اور پھر میں زمین پر گر گیا۔‘

<link type="page"><caption> سکھوں کا قصور ان کی ظاہری وضع قطع؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/08/120808_sikh_america_taliban_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

ڈاکٹر پرابجوت نے کہا کہ اگر راہ گیروں نے ان کی مدد نہ کی ہوتی تو وہ ہلاک ہو سکتے تھے۔

ڈاکٹر پرابجوت کو میٹ سائنائی ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں ان کے جبڑے کی سرجری کی گئی ہے۔

سکھ ڈاکٹر نے این بی سی فور نیویارک کو بتایا کہ انہں اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پر حملہ متعصبانہ تھا۔

ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مجھے اب اپنے ایک سالہ بیٹے کے بارے میں پریشانی لاحق ہے جو بڑا ہو کر میری طرح سکھ نظر آئے گا اور اس کو ایسے ہی نفرت انگیز حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے حملہ آور کہیں غائب ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر پرابجوت سنگھ کے دوست سمرن جیت سنگھ نےنے اپنی آن لائن پوسٹ میں بتایا کہ ڈاکٹر پرابجوت ایک بہیمانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں داخل کر دیے گئے ہیں۔

سمرن جیت سنگھ نے، جو کولمبیا یونیورسٹی میں مذہب پر پی ایچ ڈی کے ڈگری کے طالبعلم ہیں، کہا کہ ڈاکٹر پرابجوت سنگھ کا جبڑا ٹوٹ گیا ہے اور ان کے کئی دانت اپنی جگہ سے ہل گئے ہیں۔

ڈاکٹر پرابجوت سنگھ نے ہسپتال میں پولیس کو بتایا کہ اس کے حملے آور انھیں ’اسامہ‘ اور ’دہشتگرد ‘ کہتےہوئے اس کی لمبی داڑھی کو نوچتے رہے۔