پاس ورڈ دینے کے لیے دھمکایا گیا: میرانڈا

ڈیوڈ میرانڈا کا کہنا ہے ان سے پاس ورڈ لینے کے لیے انہیں دھمکیاں دی گئیں
،تصویر کا کیپشنڈیوڈ میرانڈا کا کہنا ہے ان سے پاس ورڈ لینے کے لیے انہیں دھمکیاں دی گئیں

برطانوی صحافی گیلن گرین والڈ کے ساتھی ڈیوڈ میرانڈا کا کہنا ہے کہ انہیں برطانوی حکام نے اُن کے پاس ورڈز کے حصول کے لیے ڈرایا دھمکایا گیا۔

ڈیوڈ میرانڈا نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن پر اُن کے ای میل اور سوشل میڈیا کے پاس ورڈز اور دوسری معلومات دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انہیں ڈرایا دھمکایا گیا۔

<link type="page"><caption> ڈیوڈ میرانڈا کا قانونی کارروائی کرنے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/08/130820_miranda_challenge_snowden_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

میرانڈا نے بی بی سی کو بتایا کہ اپنے پاس ورڈ بتانے کے بعد اب وہ اپنے آپ کو ’ہجوم کے سامنے ننگا‘ محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ میں یہ نہیں بیان کر سکتا کہ میں اس وقت کیسا محسوس کر رہا ہوں، کیونکہ انہوں نے مجھ میرا سب کچھ لے لیا، انہوں نے مجھے مجبور کیا میرے موبائل فون، میرے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ دینے کے لیے اور آپ جانتے ہیں کہ اس سے زیادہ کوئی ذاتی چیز نہیں ہوتی۔ اب میرا فیس بک ان کے سامنے ہے میری ساری تصویریں ان کے سامنے ہیں اور وہ دیکھ سکتے ہیں کہ میرے دوست کون ہیں۔‘

میرانڈا نے کہا کہ ’میں اپنے ساتھی گلین کے کمپیوٹر پر تھا کہ میرا سکائپ آن لائن ہو گیا اور میرا نام سکرین پر آ گیا اور میں نے محسوس کیا کہ یہ میری ذاتی زندگی میں کھلم کھلا مداخلت ہے میں نہیں بیان کرسکتا کہ میں کیسے محسوس کر رہا ہوں یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے میں ایک ہجوم کے سامنے ننگا ہوں۔‘

ڈیوڈ میرانڈا نے مزید بتایا کہ ان سے تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں نے انہیں دھمکیاں بھی دیں کہ انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

میرانڈا نے کہا کہ اُن سے اُن کے ساتھی گلین گرین والڈ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوالات کیے گئے جنہوں نے امریکہ میں نگرانی کے خفیہ پروگرام سے متعلق سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے توسط سے کئی خبریں بریک کی تھیں۔

میرانڈا اپنے ساتھی گلین گرین والڈ کے ساتھ برلن میں رہتے ہیں اور براستہ لندن وہ ریو ڈی جنیرو جا رہے تھے۔

میرانڈا اپنے ساتھی گلین گرین والڈ کے ساتھ برلن میں رہتے ہیں جو برطانوی اخبار گارڈین کے لیے کام کرتے ہیں
،تصویر کا کیپشنمیرانڈا اپنے ساتھی گلین گرین والڈ کے ساتھ برلن میں رہتے ہیں جو برطانوی اخبار گارڈین کے لیے کام کرتے ہیں

میرانڈا کا کہنا ہے کہ انہیں ہیتھرو ہوائی اڈے پر ایک کمرے میں نو گھٹنے تک حراست میں رکھا گیا اور چھ اہلکاروں نے ان کی تمام زندگی سے متعلق سوالات کیے۔ اس کے بعد ان سے ان کا کمپیوٹر، ویڈیو گیمز، موبائل فون اور میموری کارڈ لے لیے گئے۔

اس سے قبل ڈیوڈ میرانڈا نے کہا تھا کہ وہ اپنے سامان میں الیکٹرونک آلات کی جانچ کو روکنے کے لیے قانونی کارروائی کر رہے ہیں جبکہ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ ان کی حراست کو قانونی طور پر چیلنج کریں گے۔

میرانڈا کے وکلا بیڈمینز نے برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مے اور میٹروپولٹن پولیس کو یقین دہانی کے لیے لکھا ہے کہ جب تک ان کے موکل کی درخواست کا فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ’ان کی موکل کے سامان کا کسی طریق پر کوئی معائنہ نہیں ہو گا اور اُن کے ڈیٹا کو کاپی، منتقل، تقسیم یا دوسروں تک نہیں پنچایا جائے گا‘۔

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ میرانڈا چاہتے ہیں کہ ان کے ایلکٹرانک آلات انہیں واپس کر دیے جائیں اور انہیں یہ یقین دہانی کروائی جائے کہ ان کا ذاتی ڈیٹا کسی اور فریق یا گروہ کو نہیں دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ڈیوڈ میرانڈا کو ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر دہشت گردی کے قانون کے تحت روکا گیا تھا۔

میرانڈا کو دہشت گردی کے خلاف قانون ’ٹیررازم ایکٹ 2000‘ کے شیڈول سات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

دوسری جانب برطانیہ کے ہوم آفس نے اس حراست کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پولیس کو کسی پر شبہ ہے کہ وہ ’ایسی معلومات چوری کر رہا ہے جس سے دہشت گردی کا خطرہ ہے‘ تو اسے ضرور کارروائی کرنا چاہیے۔

اٹھائیس سالہ میرانڈا کی حراست پر سینیئر سیاستدانوں ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور برازیل کے حکام نے شدید مذمت کی۔

میرانڈا کو دہشت گردی کے خلاف قانون ’ٹیررازم ایکٹ 2000‘ کے شیڈول سات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔