حزب اللہ کا عسکری ونگ دہشتگرد: یورپی یونین

حزب اللہ ایک طاقتور سیاسی تنظیم ہے جو اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان کی گذشتہ کابینہ کا اہم حصہ تھی
،تصویر کا کیپشنحزب اللہ ایک طاقتور سیاسی تنظیم ہے جو اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان کی گذشتہ کابینہ کا اہم حصہ تھی

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے لبنانی تنظیم حزب اللہ کے فوجی دھڑے کو ’دہشتگرد گروہ‘ قرار دیا ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے شام میں جاری لڑائی میں شمولیت کے بعد یورپی یونین میں حزب اللہ کے فوجی دھڑے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

حزب اللہ کے فوجی دھڑے کو دہشتگرد قرار دینے کے لیے یورپی یونین کے تمام اٹھائیس ممبران کی حمایت درکار تھی۔

یورپی یونین کے فیصلے کے بعد اب یورپ میں مقیم حزب اللہ کے حامی ملیشیا کو فنڈز منتقل نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی کوئی یورپی سفارت کار حزب اللہ کے ملٹری سٹاف سے ملاقاتیں کر سکے گا۔

یورپی یونین کے کچھ ممبر ممالک کا خیال تھا کہ حزب اللہ پر پابندی سے خطے میں حالات خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگا۔

برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے کچھ ممبران کا خیال تھا کہ حزب اللہ کے ملٹری اور سیاسی ونگ میں فرق تلاش کرنا مشکل امر ہوگا۔

حزب اللہ ایک طاقتور سیاسی تنظیم ہے جو اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان کی گذشتہ کابینہ کا اہم حصہ تھی۔ یہ کابینہ اس سال مارچ میں مستعفی ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق ای یو کے چند ممبران تشویش رکھنے والے دیگر ممبران کو مطمئن کرنے کے لیے مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے کی تجویز دیتے رہے۔ ان کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ای کو’لبنان میں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے چاہیے۔‘

لبنانی حکومت نے جمعہ کو برسلز پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف اقدمات نہ کریں۔ حکومت نے حزب اللہ ملیشیا کو ’لبنانی معاشرے کا لازمی جز‘ قرار دیا۔

ادھر ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے شام میں جاری لڑائی میں صدر بشارالاسد کی حمایت کرنے پر ان کے خلاف یورپی ممالک کے موقف میں سختی آئی ہے۔

وہ ممالک جو ای یو کی طرف سے حزب اللہ کے فوجی دھڑے کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں ان کے مطابق ایسے شواہد موجود ہیں کہ حزب اللہ بلغاریا میں گذشتہ سال اسرائیلی سیاحوں پر بم حملے کی ذمہ دار ہے۔

اس بم حملے میں چھ افراد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حزب اللہ اس بم حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔

بلغاریا نے فروری میں ای یو پولیس کو دو افراد کے نام دیے تھے جن پر اس بم حملہ کرنے کا شک تھا۔ بلغاریا کے حکام نے کہا کہ انھیں یقین تھا کہ ان دو مشتبہ افراد کا تعلق حزب اللہ سے ہے۔

ای یو کے سفارت کار قبرص کی ایک عدالت میں ایک کیس کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جہاں حزب اللہ کے ایک اہلکار کو اسرائیلی شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا مجرم قرار پایا گیا تھا۔

چوبیس سالہ حسام طالب یعقوب نے کہا تھا کہ انھیں قبرص میں آنے والے اسرائیلی جہازوں کی پروازوں اور اسرائیل سے سیاحوں کو لانے والی بسوں کے نمبروں کا ریکارڈ جمع کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

حسام طالب نے کہا کہ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ معلومات کس مقصد کے لیے درکار تھیں۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کو برطانیہ ، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ نے پہلے ہی بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔