سی آئی اے سٹیشن کے سابق سربراہ گرفتار

abu omar
،تصویر کا کیپشنمصری عالم دین کو سی آئی اے کے بعض اہلکاروں نے مشتبہ دہشت گری کے الزام میں 2003 میں اٹلی سے اٹھا لیا تھا

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاناما میں سی آئی اے کے ایک سابق سٹیشن سربراہ کوحراست میں لے لیا گيا ہے۔ ان پر ایک مشتبہ دہشت گرد کے اغوا کا الزام ہے۔

سی آئی اے کے میلان سٹیشن کے سابق سربراہ رابرٹ سیلڈن لیڈی کو سنہ 2003 میں میلان سے ایک مصری عالمِ دین کو اغوا کرنے کے جرم میں نو سال قید کی ‎‎سزا سنائی گئی ہے۔

ابو عمر کے نام سے معروف مصری عالمِ دین کو مبینہ طور پر مصر لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سیلڈن لیڈی اور 22 دیگر امریکیوں کو اس واقعے میں ان کے کردار کے پیشِ نظر ان کی غیر موجودگی میں مجرم قرار دیاگیا تھا۔

دوسری جانب اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ اٹلی کو ان افراد میں سے صرف میلان میں سی آئی اے کے سابق سٹیشن چیف مطلوب ہیں اور اسی کے لیے انھوں نے بین الاقوامی گرفتاری کی اپیل جاری کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ پاناما اور اٹلی کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ ایسے میں یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سیلڈن کو جیل کی سزا کاٹنے کے لیے اٹلی بھیجا جائے گا یا نہیں۔

اطلاعات کے مطابق سلیڈن لیڈی کو کوسٹا ریکا کے قریب پاناما کی سرحد پر پکڑا کیا گیا تھا۔

اطالوی میڈیا کے مطابق اٹلی کی سابق حکومت کے وزیرِ انصاف نے ان کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ جاری کیا تھا۔

سلیڈن لیڈی کے مقدمے میں شامل ایک وکیل کا کہنا ہے کہ اٹلی کی جانب سے انٹرپول پر وارنٹ جاری کیے جانے سے اٹلی کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ مصری عالمِ دین حسن مصطفی اسامہ نصر عرف ابو عمر امریکہ کی نظر میں ایک مشتبہ دہشت گرد ہیں اور انھیں فروری 2003 میں میلان سے اٹھا لیا گيا تھا اور پھر انھیں مصر لے جانے سے قبل اٹلی اور جرمنی میں امریکی ملٹری بیس میں لے جایا گيا تھا۔

اسی کیس میں تین مزید امریکیوں کو سزا سنائی گئی ہے جن میں سی آئي اے روم سٹیشن کے چیف جیفری کاسٹیلی بھی شامل ہیں۔

ان 26 افراد میں سے کوئی بھی اٹلی کی کسی عدالت میں حاضر نہیں ہوا اور ان میں سے صرف دو ایسے جو اپنے وکیل سے رابطے میں ہیں۔

امریکی شہریوں کے اس گروہ میں سی آئی اے کے 22 افسران اور فضائیہ کا ایک پائلٹ شامل ہیں۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ تھا جہاں سی آئی اے کے اس اقدام پر غور کیا گیا جس میں خفیہ ایجنسی ملزمان کو ایسے ممالک میں لے جاتی ہے جہاں قیدیوں پر تشدد کی اجازت ہوتی ہے۔

سی آئی اے کے اس تفتیشی انداز کی انسانی حقوق کی تنظیمیں مذمت کرتی ہیں اور اسے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔