بولیویا کی امریکی سفارتخانہ بند کرنے کی دھمکی

بولیویا کے صدر ایو مورالیس نے یورپی فضائی حددود میں اپنے سرکاری طیارے کے داخلے پر پابندی کے بعد ملک میں امریکہ کے سفارتخانے کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔
خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ انھوں نے یہ دھمکی جنوبی امریکی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد دی ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو جنوبی امریکہ کے بائیں بازو کے رہنماؤں کا خصوصی اجلاس بلایا گیا تھا جس میں بولیویا کے صدر کے ساتھ یکجہتی اور ان کے طیارے کو یورپی ممالک کے ذریعہ اپنی فضائی حدود سے پرواز کی اجازت نہ دیے جانے کی مذمت کی گئی۔
جب بہت سے یورپی ممالک نے اپنی اپنی فضائي حددو میں ان کے طیارے کو پرواز کی اجازت نہیں دی تو منگل کو ان کے جہاز کو آسٹریا میں زبردستی اترنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی بنیاد کے یہ شک ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس طیارے میں امریکہ کو مطلوب جاسوس ایڈوارڈ سنوڈن موجود تھے۔
بولیویا کے صدر نے واشنگٹن پر الزام لگایا ہے کہ اس نے یورپی ممالک پر ان کو راستہ نہ دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر مورالیس نے کہا: ’امریکی سفارتخانے کو بند کرنے پر میرے ہاتھ نہیں کانپیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہماری عزت ہے خود مختاری ہے۔ امریکہ کے بغیر ہم سیاسی اور جمہوری طور پر بہتر ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ روس میں ایک اجلاس میں شرکت کرنے کے بعد واپسی پر ان کے صدارتی طیارے کو دوسرے راستے سے آنا پڑا کیونکہ انھوں نے یہ عندیہ ظاہر کیا تھا کہ امریکی جاسوس ایڈورڈ سنوڈرن کی پناہ کی درخواست پر وہ غور کر سکتے ہیں۔
سنوڈین امریکہ کو مطلوب ہیں کیونکہ انھوں نے امریکہ کے نگرانی کے خفیہ پروگرام پرزم کا راز افشا کر دیا تھا۔
جمعرات کو بولیویا کے شہر کوچابامبا میں ارجنٹینا، یوروگوئے، ایکواڈور، وینے زوئیلا اور سورینام کے صدور نے صدر مورالیس سے ملاقات کی۔

اکیواڈور کے صدر رفائل کوریا اور دوسرے رہنماؤں نے ان سے مکمل تعاون کی پیشکش کی جبکہ ارجنٹینا کی صدر کرسٹینا فرنانڈیز نے معافی کا مطالبہ کیا۔
اے پی کے بقول انھوں نے کہا: ’ہم ان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کم از کم اس غلطی کا اعتراف کریں جنھوں نے چپ چاپ قانون کی سخت خلاف ورزی کی ہے۔ وہ کم از کم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں۔‘
فرانس نے باہم مخالف خبروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے طیارے کے معاملے پر معافی مانگی ہے۔
دوسری جناب بولیوائی عوام بھی اس خبر کے بعد سڑکوں پر نکل آئی۔ نامہ نگاروں کے مطابق دارالحکومت لا پاز میں فرانس کے سفارتخانے کے باہر موجود مظاہرین نے فرانس اور یورپی ممالک کے پرچم نذرِ آتش کیے اور نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے فرانس سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ملک سے نکل جائے کیونکہ وہ متعصب ہے، منافقانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔







