چمن: پاک افغان سرحد پر دھماکہ، کم از کم چھ ہلاک

ایک محتاط اندازے کے مطابق چمن باڈر سے یومیہ بیس ہزار سے زیادہ افراد سرحد عبور کرتے ہیں
،تصویر کا کیپشنایک محتاط اندازے کے مطابق چمن باڈر سے یومیہ بیس ہزار سے زیادہ افراد سرحد عبور کرتے ہیں

پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب چمن بارڈر کے قریب افغان علاقے میں ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور تقریباً دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سرحدی سکیورٹی فورسز نے بی بی سی کو بتایا مرنے والوں میں افغان پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔

زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے چمن کے ہسپتال اور افغانستان کے سرحدی ضلع سپن بلدک کے ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد چمن میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد تمام آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

سرحد کے دونوں جانب سکیورٹی فورسز مورچہ بند ہو گئے ہیں اور سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

مقامی صحافی مطیع اللہ اچکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ افغانستان کی سرحد کے اندر چمن بارڈر سے تقریبا کچھ ہی فاصلے پر ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکہ کے وقت سرحد پر کے دونوں جانب رش تھا۔

سکیورٹی فورسز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کا ہدف افغان پولیس کا اہلکار تھے۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سرحد پر ہونے والے دھماکے میں افغان پولیس کا کمانڈر ہلاک ہوا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے اہلکار کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور افغانستان سے چمن بارڈر کے جانب آ رہا تھا اور جب وہ باڈر کے قریب پہنچا تو اچانک دھماکہ ہو گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے چمن بارڈر سے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو رسد فراہم کی جاتی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق چمن باڈر سے یومیہ بیس ہزار سے زیادہ افراد سرحد عبور کرتے ہیں۔

مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ چمن باڈر بند ہونے سے پاکستان افغانستان راہداری معاہدے کے تحت ٹرکوں کی آمدروفت بھی متاثر ہوئی ہے اور سرحد کے دنوں جانب ٹرکوں کی قطاریں لگ گئیں ہیں۔