چین اب شہروں کی نقل کر رہا ہے

چین جعلی ڈی وی ڈیز اور آئی فونز بنانے کے لیے مشہور ہے لیکن چیزوں کی نقل کی یہ روایت اب فونز اور ڈی وی ڈیز تک محدود نہیں رہی بلکہ شہروں کی نقل تک پہنچ گئی ہے۔
جیسے ہی آپ چین کے تھیمز ٹاؤن میں داخل ہونگے تو چینی شہر کا شورشرابہ اور گہما گہمی اچانک غائب ہو جائے گی۔
وہاں نہ تو مختلف کھانے فروخت کرنے والی ریڑھیاں ہونگی اور نہ ہی آپ کو سائیکلوں پر آواز لگاتے کباڑی نظر آئیں گے۔
اس ٹاؤن کی سمت جاتی سڑک پر دور سے آپ کو برطانوی علاقے کوٹس ولڈ کے گاؤں جیسا کلاک ٹاور نظر آئے گا۔
برطانوی آرکیٹیکٹ ٹونی میکی کا کہنا ہےکہ اس ٹاؤن میں آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ یورپ میں ہوں۔ ٹونی میکی تھیمز ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم کے ماسٹر پلانر ہیں۔
2001 میں جب مقامی اہلکاروں نے جب انہیں یہ کام سونپا تھا تو وہاں محض کھیت اور بطخیں ہوا کرتی تھیں۔
آج وہاں پکی سڑکیں، متعدد سرائے اور ٹیوڈر عہد کی نقل کر کے لکڑی کے مکانات بنائے گئے ہیں اس ٹاؤن میں ونسٹن چرچل کا ایک مجسمہ اور ایک میٹنگ ہال بھی بنایا گیا ہے جو قرونِ وسطی کے عہد کا لگتا ہے۔
تاہم میکی خوش نہیں ہیں ان کے خیال میں یہ حقیقت نہیں بلکہ نقل لگتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ ڈیزائن لیکر عمارتیں بنانے والوں نے ایک ساتھ مختلف انداز کی عمارتیں بنا کر اسے چوں چوں کا مربہ بنا دیا ہے اور یہ سب کچھ اصلی نہیں لگتا۔

میکی کا کہنا ہے کہ لکڑی سے بنے کچھ مکانات کو سات یا چھ منزلہ بنا دیا گیا اور چرچ میں بنائی گئی کھڑکیاں بھی ٹھیک نہیں ہیں۔
عمارت میں مختلف پتھروں کا غلط استعمال کیا گیا ہے کیونکہ کسی بھی انگلش چرچ میں اس طرح کی کھڑکیاں اور پتھر نہیں لگائے جاتے۔
میکی کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سب کسی فلم کا سیٹ لگتا ہے۔
تھیمز ٹاؤن میں اکثر نوجوان جوڑے نظر آتے ہیں جو وہاں اپنی شادی کی یادگار تصاویر کھینچنا چاہتے ہیں۔فین یو زی نام کے ایک شخص کا کہنا ہے کہ انہیں یورپی فٹبال کا کھیل بہت پسند ہے اور وہ یورپ کی ہر چیز سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ اصلی تھیمز تو نہیں دیکھ سکتے اس لیے لطف اندوز ہونے یہاں چلے آتے ہیں۔
ایک خاتون کا کہنا تھا کہ چونکہ چینی شہروں میں بہت بھیڑ بھاڑ اور تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں اس لیے وہ سکون کی تلاش میں یہاں آتی ہیں۔
چین میں دیگر مقامات پر آئفل ٹاور اور ٹاور برِج کی نقل بھی بنائی گئی ہے۔







