فون ہیکنگ: مدیروں کے خلاف مقدمہ چلے گا

برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے دو سابق مدیروں سمیت پانچ ملازمین کی فون ہیکنگ کے الزامات میں ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد ہوگئی ہے۔
برطانیہ میں جولائی سال دو ہزار گیارہ میں فون ہیکنگ سکینڈل کے بعد ایک سو اڑسٹھ سال سے شائع اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اخبار نیوز آف دی ورلڈ بند ہوگیا تھا۔
لارڈ چیف جسٹس لارڈ جج کی جانب سے اپیل کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اس مقدمے کی کارروائی ستمبر سے شروع ہو گی۔
<link type="page"><caption> فون ہیکنگ: بروکس اور کولسن پر الزامات عائد</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/07/120724_phone_hacking_charges_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
اپیل کی درخواست میں نیوز آف دی ورلڈ کی سابق مدیر ربیکا بروکس اور اینڈی کولسن نے استدعا کی تھی کہ وہ الزامات میں بے قصور ہیں۔
ربیکا بروکس اور اینڈی کولسن سمیت سات افراد پر سکول کی طالبہ ملی ڈاؤلر کے ایس ایم ایس پیغامات تک غیر قانونی طور پر رسائی کی سازش کا الزام ہے۔
نیوز آف دی ورلڈ کے سابق سینئیر رپورٹر جیمز ویدراپ، سابق مینیجنگ ایڈیٹر سٹیورٹ کٹنر اور سابقہ نائب ایڈیٹر ایئن ایڈمنڈسن کی اپیلیں بھی مسترد ہو گئی ہیں۔
پانچوں مدعا علیہ نے درخواست میں کہا تھا کہ مطلوب وصول کنندہ کے سننے کے بعد انہیں وائس میلز تک رسائی حاصل کی تھی اور یہ تحقیقاتی اختیارت ایکٹ دو ہزار کے تحت کوئی جرم نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپیل کورٹ نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ’مدعا علیہ کے اعتراف کے برخلاف، نتیجتاً قانونی یقین میں کمی نہیں آئی۔‘
لارڈ جج نے مدعا علیہ کے نام شائع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ’ہم مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے کوئی بھی تعصب دیکھنا نہیں چاہتے ہیں‘۔
’ہمیں لازمی غیر حقیقی نہیں ہونا چاہیے، اس ملک میں مشکل سے ہی کوئی ایسا ہوگا جسے یہ معلوم نہیں ہوگا کہ یہ کیس کس پر لاگو ہوتا ہے‘۔







