کارکن کنفیوژن کاشکار نہ ہوں: الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کے اعصاب توڑنے اور ان کے ساتھیوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے افسوسناک اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایسے اقدامات بیرون ممالک پاکستان کی کسی جماعت کے رہنما، کارکنوں اورہمدردوں کے ساتھ نہیں روا رکھے گئے۔
الطاف حسین نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کا تو کوئی حوالہ یا ذکر نہیں کیا لیکن انھوں نے کہا ہے کہ کسی بھی سطح پر ناانصافی اورانتہائی کڑی آزمائشوں کے پہاڑ حوصلوں کو پست نہیں کرسکتے۔
ایم کیو ایم کے اعلامیے مطابق الطاف حسین نے منگل کو رابطہ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ بعض اطلاعات پر کارکنان وعوام میں کنفیوژن اور اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ تحریک کے پرعزم ، حوصلہ مند اور جانثار کارکنان ہرآزمائش کے موقع پر ماضی کی طرح ثابت قدمی اور مثالی اتحاد کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی خبر پر کنفیوژن کا شکار ہونے اور اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے رابطہ کمیٹی سے رجوع کریں۔
اس سے پہلے لندن میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے منگل کی صبح شمال مغربی لندن میں دو مکانات پر چھاپے مارے۔
لندن میں میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق یہ چھاپے پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے یونٹ نے مارے اور ان گھروں کی تلاشی لی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
میٹرو پولیٹن پولیس کے پریس بیورو نے ان چھاپوں کے بعد ایک انتہائی مختصر بیان جاری کیا جو ان کی ویب سائٹ پر بھی شائع کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کی تحقیقات جاری ہیں۔ منگل کو مارے گئے چھاپوں کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا اب تک انھوں نے کس شخص کو گرفتار نہیں کیا ہے۔
میٹرو پولیٹن پولیس نے چند ماہ قبل بھی شمالی لندن میں ایک بزنس ایڈرس پر چھاپے مارے تھے۔
تلاشی کے دوران میٹروپولیٹن پولیس نے جو شواہد اکھٹے کیے ان کے بارے میں پولیس کے ترجمان نے کوئی تفصیل سے آگاہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ایم کیو ایم کے اہم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر سنہ 2010 کو لندن میں قتل کر دیا گیا تھا اور ان کے قتل کو تین سال مکمل ہونے والے ہیں۔







