پارک جو ترک عوام کو منقسم کیے ہوئے ہے

- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، استنبول
ترکی کے شہر استنبول میں واقع گیزی پارک بلندوبالا عمارتوں کے درمیان ایک جزیرے کی مانند ہے یا صحرا میں ایک نخلستان جیسا مگر گزشتہ چند ہفتوں سے یہ مقام ترک عوام کو منقسم کیے ہوئے ہے۔
گیزی پارک کی جگہ پر ایک شاپنگ سینٹر یا قدیم فوجی بیرکس کی یادگار کی تعمیر کے معاملے نے ملک میں ایک طبقے کو ہلا کر رکھ دیا اور اس میں وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کی ذاتی حیثیت اور ان کے طرز حکمرانی پر بھی بڑے اور اہم سوالیہ نشان ڈال دیے ہیں۔
جہاں ایک طرف مظاہرین کا ایک بڑا طبقہ چاہتا ہے کہ پارک کو پارک ہی رہنے دیا جائے وہیں ان عناصر کی کمی نہیں ہے جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے نادر موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔ اور وہ جانے بھی کیوں دیں کیونکہ رجب طیب اردوغان کے ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر محیط دورِ حکومت میں انہیں یہ موقع پہلی بار ہی تو ملا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں اور ان میں شرکت کرنے والے لوگوں کو وہ کیا چیز ہے جو باوجود ہر مشکل کے بار بار باہر کھینچ کر لاتی ہے۔
اس سے قبل کے اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے پہلے یہ کہ گیزی پارک سے مظاہرین کا انخلا کیسے ہوا۔
سنیچر کو پولیس نے جب وزیر اعظم کے لبریز ہوتے پیمانۂ صبر کو مزید ہچکولوں سے بچانے کے لیے گیزی پارک میں جمع مظاہرین پر دھاوا بولا تو مظاہرین آنسو گیس کے بادلوں میں گیزی پارک سے نکلے اور بہت ساروں نے گیزی پارک کے سامنے ہی واقع دیوان ہوٹل میں پناہ لی۔
اس کے بعد ہوٹل کے مالک علی کوش نے ٹوئٹر پر اپنے ملازمین کو حکم جاری کیا کہ خبردار جو مظاہرین کو آنے سے روکا۔
ہوٹل جلد ہی ایک بڑی پناہ گاہ بن گیا جہاں ڈاکٹر بھی آگئے، کباب والے نے بھی ریڑھی لگا لی اور دلجوئی کا سامان کرنے والے بھی آگئے یا وہ جو سمجھتے تھے کہ ان کے شراب پینے یا سرعام بوس و کنار کرنے سے اردوغان حکومت گر جائے گی وہ بھی پہنچ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چند نوجوانوں نے ہوٹل کے باہر ڈیرے جمائے اور نعرے بازی شروع کر دی جس پر پولیس اور مظاہرین میں دلچسپ مکالمے کا آغاز ہوا جس سے لگتا ہی نہیں تھا کہ کچھ دیر قبل ہی اسی پولیس نے انہی مظاہرین کو مار پیٹ کر پارک سے نکالا ہے۔
اسی دوران پولیس اور مظاہرین میں تقسیم چوک اور گیزی پارک کے اردگرد کے علاقوں میں آنکھ مچولی کھیلی جاتی رہی۔ شدید آنسو گیس کی شیلنگ نے دیکھنا محال کر دیا۔
اس سے بچ کر ایک ریستوران میں پناہ کے لیے پہنچے تو ماحول ہی مختلف تھا۔عرب موسیقی پر چند منچلے نوجوان دبکہ (ایک عربی رقص کی قسم) رقص کر رہے تھے۔ کھانا اور پینا باہر آنسو گیس کے باوجود ایسے جاری تھا جیسے شاید یہ کوئی اور ہی دنیا ہو۔
ریستوران میں پناہ لینے والے ایک نوجوان عمر سے پوچھا کہ جناب آپ کیوں اتنے بضد ہیں اس لڑائی پر، کیا آپ کے پاس ایک اچھی ملازمت، کھانے پینے کو پیسہ اور ملک میں جمہوریت نہیں ہے؟ تو جواب ملا کہ آخر کسی کو تو حالات کو بدلنا ہے یہ جمہوریت کے نام پر آمریت ہے جس میں ایک شخص جو مجھے سمجھتا ہی نہیں میرے بارے میں فیصلے کرتا ہے۔
ایک خاتون فوٹوگرافر گیولے سیلک سے پوچھا کہ کیوں یہ لوگ بار بار چلے آتے ہیں کیا یہ فارغ ہیں اور ان کے پاس کام کاج نہیں ہے؟ ان کا جواب تھا کہ ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں اب تبدیلی ضروری ہے۔
اس پر پوچھا کہ اگر آج اردوغان حکومت چھوڑ دیں تو کیا مسئلہ حل ہو جائے گا تو ان کا جواب تھا کہ نہیں بلکہ مسئلہ شاید گمبھیر ہو جائے گا کیونکہ اس ملک میں کوئی بھی رہنما نہیں ہے۔
ایک اور نوجوان ناہید نے ریستوران میں آنسو گیس سے بچنے کے لیے پناہ لی، ان سے پوچھا کہ اگر حکومت انتخابات کا اعلان کرتی ہے تو کیا اس سے مسئلے کا حل نکل سکے گا؟ ان کا جواب تھا کہ اردوغان عوام میں مقبول ہیں اور ان کی جماعت کم ووٹوں سے ہی سہی مگر انتخابات ضرور جیت جائے گی۔
پھر اس مسئلے کا حل آخر ہے کیا؟ اس سوال کا جواب متعدد لوگوں سے پوچھا مگر کسی کی سوچ اس حد تک نہیں جاتی تھی کہ حل آخر ہوگا کیا۔
تھک ہار کر واپس ہوٹل جا رہا تھا کہ ایک نوجوان جوڑا ملا جو مظاہرے میں شریک تھے اور انہوں نے گیزی پارک اور دیوان ہوٹل دونوں میں مار کھائی تھی۔ ان کا جواب سادہ سا تھا کہ’ جب اس احتجاج کی منصوبہ بندی کی تو منصوبہ بندوں کو بھی نہیں معلوم تھا کہ کیا ہو گا۔ جب اس قدر ردِ عمل نظر آیا تو منتظمین کے بھی ہاتھ پاؤں پھول گے کیونکہ انہوں نے احتجاج کے بعد کی تو منصوبہ بندی کی ہی نہیں تھی‘۔
احتجاج برائے احتجاج کے نظریے سے آنے والوں کو نہ تو وزیر اعظم کے ردِعمل کی امید تھی اور نہ ہی انہیں امید تھی کہ اتنے سارے متنوع پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے گروہ باہر نکل آئیں گے۔

اب گیزی پارک خالی ہے جس میں سارا دن ترک پولیس کے اہلکار کمر سیدھی کرنے کے لیے لوٹتے رہتے ہیں جبکہ مظاہرین ایک در سے دوسرے در اور ایک گلی سے دوسری گلی پولیس کے ساتھ آنکھ مچولی میں مصروف ہیں۔
پارک کی بقاء اور ماحولیات کا مسئلہ پتا نہیں کب حل ہوتا ہے مگر اچانک استنبول کی انتظامیہ نے لاکھوں پودے لگانے کی ایک بڑی مہم شروع کر دی ہے اور گیزی پارک میں بھی پانچ قد آور پلے بڑھے درخت بھی چند گھنٹوں میں لگا دیے گئے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ پودے کون سی شاخیں نکالتے ہیں اور کیسے پروان چڑھتے ہیں۔
اب مظاہرین کم از کم اردوغان حکومت پر ماحول دشمنی کا الزام تو نہیں لگا سکیں گے مگر دوسری جانب رجب طیب اردوغان کے لیے خصوصاً اور ان کی حکومت کے لیے عموماً یہ سب ایک سوالیہ نشان ہے کہ چند مظاہرین کے لیے اتنی طاقت کا استعمال کون سی عقل مندی ہے؟
اس کا ایک جواب کیفے میں موجود مہمت عمر کے پاس تھا جن کے خیال میں حکومت کے پاس نئے کھلونے تھے انہیں ان کے استعمال کا فیصلہ کیا اور ان کی آزمائش کی، اب انہیں کسی بھی عرب سپرنگ کے آنے سے پہلے کی سردی آسانی سے گزارنے میں مدد ملے گی۔







