’نگرانی پر اتحادیوں سے بات چیت جاری ہے‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ، ٹیلی فون اور ڈیٹا کی نگرانی کے پروگرام کے حوالے سے اتحادیوں کی جانب سے سفارتی رابطے کے ذریعے اٹھائے گئے سوالات پر بات چیت جاری رہے گی۔
یہ بات امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان سیکی نے یہ بات ہفتہ وار بریفنگ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔
ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت میں بھی فون، انٹرنیٹ کی نگرانی کی ہے اور کیا ان دونوں ممالک کی حکومتوں کو اس بات سے مطلع کیا گیا تھا تو سیکی کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ انسداد دہشت گردی، اور سائیبر سکیورٹی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہیں۔
دوسری جانب جمعرات کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے امریکہ سے ان خبروں کے حوالے سے تفصیلات مانگی ہیں۔
اعزاز چوہدری نے کہا ’ہم امریکہ کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
دریں اثناء امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ جمعرات کو کراچی کے ہوائی اڈے پر امریکی سفارتخانے کے چار اہلکاروں کو حکام نے روک لیا تھا۔
ترجمان کے مطابق یہ اہلکار اسلام آباد سے کراچی میں قونصل خانے جا رہے تھے لیکن ان کو کراچی کے ہوائی اڈے پر ہی حکام نے روک لیا۔
’یہ چاروں اہلکار واپس اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ ہم اس بارے میں مزید تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کو یہ نہیں معلوم کہ آیا اسلام آباد میں تعینات سفارتکار کو پاکستان کے دیگر شہروں میں جانے کے لیے خاص اجازت نامے کی ضرورت درکار ہے یا نہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ اس واقعے کے حوالے سے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔







