سویڈن کے مرد ٹرین ڈرائیور سکرٹس میں

سویڈن کے ایک درجن مرد ٹرین ڈرائیوروں نے گرمی میں نِکر پہننے پر پابندی لگنے کے بعد سکرٹس پہننا شروع کردی ہیں۔
سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم کے شمال میں ٹرین ڈرائیور پچھلے دو ہفتوں سے سکرٹس پہن کر ٹرین چلا رہے ہیں۔
ٹرین کی کمپنی اریوا نے جنوری میں جب چارج سنبھالا تو اس نے مرد ڈرائیوروں کو نکر پہننے سے منع کیا۔
تاہم مقامی اخبارات کے مطابق کمپنی نے ڈرائیوروں کو سکرٹ پہن کر ٹرین چلانے کی اجازت دے دی ہے۔
اریوا کے ترجمان نے مقامی اخبار کو بتایا ’ہم چاہتے ہیں جو بھی اس کمپنی کے لیے کام کر رہا ہے وہ وہ لباس پہنے جس میں وہ اچھا لگے۔ اور جو موجودہ لباس ہے ڈرائیور اس میں اچھے لگتے ہیں۔ اگر وہ سکرٹ پہننا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘
ٹرین ڈرائیور مائیکل ایکرسٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرائیوروں کو سکرٹس پہننے کا خیال اس وقت آیا جب کمپنی نے ان کو نکر پہننے سے منع کیا۔
’ہم ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ موسمِ سرما میں سکرٹس خری کر پہنیں گے۔ یہاں گرمی بہت زیادہ ہوگئی ہے اور اگر ہم نکر نہیں پہن سکتے تو سکرٹس پہنیں گے۔‘
ٹرین کے مرد ڈرائیورز نے صرف گرمی ہی میں سکرٹس پہننے کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایکرسٹن نے کہا ’ہمیں مسافر گھورتے ہیں لیکن ابھی تک کسی نے ہمیں کچھ نہیں کہا۔‘







