کیلیفورنیا میں فائرنگ سے پانچ ہلاک

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا مونیکا میں فائرنگ کے ایک واقعے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
فائرنگ کا یہ واقعہ ایک مکان سے شروع ہوا ہوا اور مقامی کالج میں جا کر ختم ہوا جہاں پولیس کے مطابق انہوں نے ایک مسلح شخص کو کالج کی لائبریری میں گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق مسلح حملہ آور نے دو افراد کو ایک گھر میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا جبکہ دو مزید افراد کو کالج جاتے ہوئے اور ایک خاتون کو کالج کی لائبریری کے باہرگولی ماری گئی۔
واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکار رائفل سے مسلح سیاہ پوش حملہ آور کی عمر پچیس سے تیس سال کے درمیان تھی اور اس نے بلٹ پروف جیکٹ بھی پہن رکھی تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے ایک مکان پر گولیاں برسائیں جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی لیکن یہ واضح نہیں کہ آتشزدگی کی وجہ فائرنگ تھی یا کچھ اور۔
امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے کہا ہے کہ مرنے والے دو افراد حملہ آور کے بھائی اور والد تھے۔
تباہ شدہ مکان کی پڑوسن جیری راتھنر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انھوں نے اپنے برآمدے سے گولیاں چلتی دیکھیں۔اس کے بعد مسلح شخص گلی کے کونے تک گیا اور اس نے ایک کار چلانے والی خاتون پر بندوق تان کر اسے باہر نکلنے کے لیے کہا۔
انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد اس نے دوسری گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا اور متواتر کئی فائر کیے۔ راتھنر کہتی ہیں کہ ’اس نے تین چار گولیاں کار میں سوار خاتون پر براہِ راست برسائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد حملہ آور سانتا مونیکا کالج کے احاطے میں داخل ہوگیا اور لائبریری میں داخل ہونے والی ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
کالج انتظامیہ کی ایک اہلکار ٹرینا جونسن نے اے پی کو بتایا کہ ’ہم نے ایک خاتون کو گولی لگتے ہوئے دیکھی اور میں اپنے آپ کو کانپنے سے نہیں روک سکی۔‘
پولیس چیف جیکلن سی بروکس کا کہنا ہے کہ بندوق بردار نے کالج لائبریری میں فائرنگ کی لیکن گولی کسی کو نہیں لگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر پولیس اہلکار وہاں پہنچے اور فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور کو موقع پر ہلاک کر دیا۔

حکام نے ایک اور شخص کو حراست میں بھی لیا ہے جو کہ کالے کپڑوں میں ملبوس تھا اور اس کی ٹی شرٹ کی پشت پر ’لائف از اے گیمبل‘ یعنی زندگی ایک جوا ہے لکھا ہوا تھا۔
سی بروکس نے کہا کہ ’ہم سو فی صد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ جو شخص مارا گیا ہے وہ اکیلا ہی تھا۔‘
یہ واقعہ اس جگہ سے محض پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا جہاں جمعہ کو امریکی صدر براک اوباما ایک پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔







