’انجلینا کا فیصلہ حوصلہ افزاء ثابت ہوگا‘

ہالی وڈ کی آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ انجلینا جولی کہتی ہیں کہ انھوں نے چھاتی کے سرطان کے ممکنہ خطرے کے باعث چھاتی کی سرجری کروانے کا فیصلہ کیا تاکہ خواتین کو چھاتی کے سرطان کی تشخیص کی حوصلہ افزائی ہو۔
ڈاکٹروں کے مطابق 37 سالہ اداکارہ اگر سرجری کے عمل نہ گزرتی تو ان کا چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کا خدشہ 87 فیصد تھا۔ انھیں اپنی والدہ سے کینسر کا جین ورثے میں ملا تھا۔
جولی کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ ایک دہائی تک کینسر کے مرض سے لڑتے ہوئے 56 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں چھاتی کے سرطان کے جین کا پتا لگانے کے ٹیسٹ ہوتے ہیں لیکن شاید بہت سی خواتین کو انجلینا جولی کی طرح کی میڈیکل سہولیات دستیاب نہ ہوں۔
برطانیہ میں خواتین جن کے خاندان میں یہ بیماری پائی جاتی ہے انھیں ٹیسٹ کی مفت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
زیادہ تر خواتین میں چھاتی کے سرطان کی وجہ موروثی جین نہیں ہے۔ مرض کا شکار ہونے والی پانچ سو خواتین میں سے ایک کو ہی یہ مرض ورثے میں ملتا ہے۔
سرجری کے بعد دونوں پستانوں کی سرجری کے بعد انجلینا جولی کو چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کا خطرہ محض پانچ فیصد رہ گیا ہے۔
جولی کو یقین ہے کہ اپنے تجربے کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے زیادہ خواتین اپنی تشخیص کروائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
2009 میں ٹیلی ویژن کی 27 سالہ ادکارہ جیڈ گوڈی نے اپنے عنقِ رحم (سروائیکل کینسر) کے سرطان میں مبتلا ہونے کا اعلان کیا تھا۔رواں سال مارچ میں ان کے انتقال کے بعد خواتین میں سرطان کے مرض کی سکرینگ کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔
جو سروائیکل کینسر ٹرسٹ کے ڈائریکٹر رابرٹ میوزک کہتے ہیں، ’ ہم نے دیکھا کے چار لاکھ خواتین نے اپنی تشخیص کروائی۔ جیڈ کے اعلان کے بعد اس کا بہت اثر پڑا ایک فلاحی ادارے کے طور پر ہماری خدمات کی طلب میں تین سو فیصد اضافہ ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ جیڈ کی کہانی سننے کے بعد نوجوان خواتین کی اکثریت نے ہم سے رجوع کیا۔
ربورٹ میوزک کا کہنا تھا کہ جیڈ کے اعلان کے بعد اس کی اثرات کی مدت بہت کم تھی اور صرف ایک سال بعد ہی سکرینگ کی شرح دوبارہ کم ہو گئی ہے۔
بریک تھرو بریسٹ کینسر سے وابستہ ڈاکٹر رچرڈ فرانسس کہتے ہیں کہ جولی کے اعلان کے بعد چھاتی کے سرطان کے مریضوں پر اچھا اثر پڑے گا۔
’ اس سے خواتین میں آگاہی ہو گی جو بہت اہم ہے۔ چھاتی کے سرطان کی بہت سی وجوہات ہیں اور یہ اچھی بات نہیں ہے کہ ایسے ایک ہی بیماری سمجھا جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ ہم خواتین کو ڈرانا یا پریشان نہیں کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کو آگاہ رکھا جائے۔‘
ڈاکٹر رچرڈ فرانسس نے بتایا کہ یہ یاد رکھنا بہت اہم ہے کہ BRCA1 جین ایک منفرد جین ہے جو زیادہ تر وراثت کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
’ انجلینا جیسی خواتین کے لیے ضروری ہے کہ انھیں اپنے پاس موجود تمام مواقعوں کے بارے میں معلوم ہو جس میں خطرے کو کم کرنے کے لیے سرجری سمیت چھاتی کا معائنہ بھی شامل ہے‘
انھوں نے کہا کہ اگرچہ انجلینا کے لیے چھاتیاں نکلوانا ہی بہتر فیصلہ تھا لیکن یہ ضروری نہیں کہ تمام خواتین کے لیے یہی فیصلہ بہتر ہو۔‘
ہم خواتین پر زور دیں گے کہ وہ چھاتی کے سرطان کے ممکنہ خطرے کے بارے میں اپنے معالج سے رابطہ کریں۔







