امریکہ: دس سال سے لاپتہ خواتین بازیاب

آمینڈا بیری اور جینا دے ہیسوس کا لاپتہ ہونا کلیو لینڈ کے لیے اہم خبریں تھیں اور انہیں ہلاک تصور کیا جا رہا تھا
،تصویر کا کیپشنآمینڈا بیری اور جینا دے ہیسوس کا لاپتہ ہونا کلیو لینڈ کے لیے اہم خبریں تھیں اور انہیں ہلاک تصور کیا جا رہا تھا

امریکی ریاست اوہائیو سے آج سے تقریباً ایک دہائی قبل تین مختلف واقعات میں لاپتہ ہو جانے والی تین نوجوان لڑکیوں کو شہر کلیولینڈ میں ایک مکان سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

سولہ سالہ آمینڈا بیری سنہ دو ہزار تین میں، چودہ سالہ جینا دے ہیسوس اس سے ایک سال بعد اور انیس سالہ میشیل نائٹ سنہ دو ہزار دو میں لاپتہ ہوئیں تھیں۔

اُن کی دریافت کے بعد آمینڈا بیری نے پیر کے روز فرار ہونے کی بہادرانہ کوشش کی جس میں اُن کی ایک پڑوسی نے مدد کی۔

اس کیس کے سلسلے میں تین بھائیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح ایک پریس کانفرنس کی جائے گی اور واقعات کی تفصیلات بتائی جائیں گی۔

کلیولینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں ملزمان ہسپانوی نژاد ہیں اور ان کی عمریں پچاس، باوّن اور چوّن سال ہیں۔ اُن میں ایک ملزم اُس گھر کا رہائشی ہے جہاں سے یہ لڑکیاں بازیاب ہوئی ہیں۔

ملزمان میں سے ایک کا نام ایریل کاسٹرو ہے اور وہ ایک سکول بس کا ڈرائیور تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گھر سے ایک چھ سالہ بچی بھی ملی ہے تاہم پولیس نے اس بچی کے بارے تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں تاہم آمینڈا بیری کی ایک رشتے دار کا کہنا ہے کہ آمینڈا نے اُنھیں بتایا تھا کہ اُس کی ایک بیٹی بھی ہے۔

خواتین کے گھر والوں نے اس خبر پر خوشی اور حیرانگی کا اظہار کیا اور جہاں انہیں مبینہ طور پر قید رکھا گیا اُس گھر کے باہر ایک ہجوم بھی اکھٹا ہو گیا۔

جینا دے ہیسوس کی ایک رشتے دار کا کہنا تھا کہ اُن کے خاندان نے کھبی امید نہیں چھوڑی اور اُن کے لیے آج ایک بہترین دن ہے۔‘

کلیولینڈ میٹرو ہسپتال کے اہلکاروں نے بتایا کہ تینوں خواتین کو منگل کے روز رہا کیا گیا ہے۔ ہسپتال کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر گرالڈ ملونی نے کہا کہ خواتین نے ہسپتال کے عملے سے بات کی تاہم مزید تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔

آمینڈا بیری اور جینا دے ہیسوس کا لاپتہ ہونا کلیولینڈ کے لیے اہم خبریں تھیں اور انہیں ہلاک تصور کیا جا رہا تھا۔ تاہم میشیل نائٹ کی گمشدگی کو اتنا بڑا موضوع نہیں بنایا گیا اور اُن کی دادی کا کہنا تھا کہ حکام اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ وہ گھر سے بھاگ گئی ہیں۔

آمینڈا بیری کی آزادی کی کاوش

کل شام جب مبینہ اغواء کار گھر سے باہر گئے تو آمینڈا بیری نے بھاگنے کی کوشش کی۔

ان کے ہمسائے چارلز ریمزی نے گھر میں سے چیخنے کی آواز سنی۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ مجھے ایک لڑکی نظر آئی جو باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ’میں نے اُن سے کہا کہ آپ دروازے سے باہر آ جائیں تو جواب ملا کہ اس پر تالا لگا ہوا ہے۔ ہمیں دروازہ توڑنا پڑا۔‘

باہر نکلتے ہی آمینڈا بیری اور چارلز ریمزی، دونوں نے پولیس کو فون کیا۔

پولیس کو آمینڈا نے فوراً بتایا کہ ’میرا نام آمینڈا بیری ہے۔ مجھے اغوا کیا گیا تھا۔ میں دس سال سے لاپتہ ہوں۔ میں آزاد ہو گئی ہوں۔ میں یہاں ہوں۔‘

آمینڈا بیری کی والدہ، لووانہ، مارچ دو ہزار چھ میں، اپنی بیٹی کی گمشدگی کے تین سال بعد وفات پا گئیں تھیں۔