ڈھاکہ: توہین اسلام قانون کےحق میں مظاہرے، 15 ہلاک

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس اور اسلام پسند مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
ڈھاکہ میں اتوار کو جمع ہونے والے حفاظتِ اسلام نامی گروہ کے حامی پانچ لاکھ افراد ملک میں اسلامی تعلیمات کے نفاذ اور اسلام کی ہتک کرنے والے افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
جب پولیس نے ان مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو کچھ بلوائیوں نے دکانوں اور پولیس کی گاڑیوں پر حملے کیے۔
اس پر پولیس نے اشک آور گیس، ربر کی گولیاں اور سٹن گرینیڈ استعمال کر کے ہزاروں مظاہرین کو شہر کے مرکزی کاروباری علاقے موتی جھیل سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا اور پیر کو علی الصبح ہی پولیس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہو سکی۔
پیر کی صبح پولیس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اب قریبی عمارتوں میں پناہ لینے والے مظاہرین کی تلاش جاری ہے۔
ہزاروں مظاہرین نے اپنے جلوس کے لیے دارالحکومت کی اہم سڑکیں بند کر دی تھیں جو شہر کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملاتی ہیں۔
ان مظاہرین نے ایسے افراد کے لیے پھانسی کا مطالبہ کیا جو اسلام کی ہتک کرتے ہیں اور مردوں اور خواتین کے درمیان علیحدگی کی بات کی تاکہ اسلام کی تعلیمات کو سختی سے نافذ کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس گروہ کے مطالبات پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔
حفاظتِ اسلام کی قوت اس کے اراکین ہیں جن کا تعلق ملک کے دینی مدارس اور درسگاہوں سے ہے۔
دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ بنگلہ دیش ایک سکیولر جمہوریہ ہے اور حکومت ان گروہوں کے مطالبات کو رد کرتی ہے۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے بارہا کہا ہے کہ ملک کے توہینِ رسالت سے متعلق موجودہ قوانین کافی ہیں۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی اکثریتی آبادی یعنی نوے فیصد مسلمان ہیں جبکہ باقی آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے۔







