نایاب گلابی ہیرا فروخت کر دیا گیا

دنیا کے بڑے گلابی ہیروں میں سے ایک گلابی ہیرا نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں 39.3 ملین ڈالر سے زیادہ قیمت میں فروخت کر دیا گیا۔
نیلامی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ’پرنسی‘ نامی اس ہیرے کو نیویارک کے ایک گمنام شخص نے فون پر بولی دے کر خریدا۔
34.65 کیرٹ اس ہیرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو جنوبی بھار کی تاریخی گول کنڈہ کان سے نکالا گیا تھا، اور یہ حیدرآباد کے شاہی خاندان کی ملکیت ہے۔
خیال رہے کہ برصغیر میں مغلوں کے دورِ حکومت میں حیدرآباد کا شمار امیر ترین ریاستوں میں ہوتا تھا۔
نیویارک کے کرسٹی جیولری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ راہول کا کہنا ہے کہ پرنسی سے حیدرآباد کے نظام اور بڑودا کی مہارانی سیتا دیوی کے نام وابستہ ہیں۔
واضح رہے کہ گول کنڈہ کی کان سے دریافت ہونے والے حسین ترین پتھر بادشاہوں اور حکمرانوں کے لیے مخصوص ہوتے تھے۔
امریکی میگزین ’ٹائم‘ کے مطابق پرنسی نظام دکن کی ملکیت تھا جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ 1937 میں دنیا کے امیر ترین شخص تھے۔
یہ گلابی ہیرا 1960 تک منظرِ عام پر نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد اسے سودبی نیلام گھر نے ’ایک معزز شخص کی ملکیت‘ کہہ کر بیچا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرسٹی جیولرز کا کہنا ہے کہ چار کے چار گلابی ہیرے گول کنڈہ سے نکالے گئے تھے۔ یہ علاقہ زمانۂ قدیم سے ہیروں کی کانوں کے لیے مشہور ہے اور تقربیاً 800 قبل مسیح سے یہاں سے ہیرے نکالے جاتے تھے۔
گراف پنک نامی ہیرے کو 2010 میں جنیوا سودبی نے 44 ملین امریکی ڈالر میں فروخت کیا تھا۔ اس وقت خیال کیا جاتا تھا کہ یہ اس نیلام گھر کی تاریخ میں سب سے مہنگا ہیرا تھا۔
سب سے بڑے دو ہیرے ’دریائے نور‘ جس کا وزن 195 کیرٹ اور ’نورالعین‘ جس کا وزن 60 قیراط ہے، ایران کے شاہی تاج کے زیورات میں سے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہیروں کو 242 قیراط کے ایک بڑے ہیرے سے کاٹا گیا ہے۔
کرسٹی جیولر کا کہنا ہے کہ ’پرنسی ہیرے‘ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا تیسرا بڑا گلابی ہیرا ہے جو 300 سال پہلے گول کنڈہ کی کانوں میں نکالا گیا تھا۔







