’کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کریں گے‘

امریکہ اور چین نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔
جبکہ چین کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر شمالی کوریا کو اس بات پر رضامند کرنے کے عمل میں شریک ہو گا کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے اور تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بیجنگ میں مذاکرات کے بعد کہا کہ دونوں جانب اس معاملے پر مذاکرات جاری رکھیں گے تاکہ بعض معینہ فیصلوں پر پہنچا جا سکے جن کی مدد سے ان پر عمل در آمد اور پیش رفت پر نظر رکھی جا سکے۔
چین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ یینگ جائچی نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کو دھمکیاں دینے کے بعد پیدا ہونے والے محاذ آرائی کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چینی حکومت دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
امریکہ نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے کو اس وقت تک کے لیے منسوخ کر دیا ہے جب تک شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کر دیتا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یہ بھی کہا کہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی پالیسی کو مزید موثر اور سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اگر اس میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوتی تو کسی قسم کے اقدامات کی گنجائش رکھی جا سکے۔
جان کیری خطے کا ایک ایسے وقت میں دورہ کر رہے ہیں جب یہ اطلاعات گردش میں ہیں کہ شمالی کوریا ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرنے والا ہے جو کہ ممکن ہے پندرہ اپریل کو کیا جائے گا جب شمالی کوریا کے آنجہانی رہنما کِم اِل سنگ کی ایک سو ایک ویں سالگرہ منائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی کوریا کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس نے دو موسودان بیلسٹک میزائیل بیٹریاں مشرقی ساحل کے قریب بھجوا دی ہیں مگر سنیچر کو جنوبی کوریا کی یونہاپ خبر رساں ادارے نے کہا کہ گزشتہ دو روز سے موبائیل لانچرز کی کسی قسم کی کوئی نقل و حرکت نہیں دیکھی گئی ہے۔
شمالی کوریا کی حکومت بنیادی طور پر جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے مشترکہ فوجی مشقوں پر غصے ہے۔
بیجنگ میں جان کیری نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر خارجہ وینگ یی سے ملاقات کی۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا ایک بہت ’نازک وقت سے گزر رہی ہے جس میں بہت سے پیچیدہ مسائل اسے درپیش ہیں‘۔
ان کے مطابق ان مسائل میں’ایران اور اس جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ، شام اور مشرق وسطیٰ کا مسئلہ اور دنیا کی معیشت کا وسیع تر مسئلہ ہے جس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے‘۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’جزیرہ نما کوریا میں جوہری ہتھیاروں کے مسئلے کو صحیح طور پر حل کرنا تمام فریقوں کے حق میں ہے اور یہ ان تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔‘
اس سے قبل امریکی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی نے یہ خبر دی تھی کہ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار سے لیس میزائل داغنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہو جس کے ذریعے میزائل جوہری ہتھیار سے لیس کیے جا سکیں۔
چین روانگی سے قبل جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں جان کیری نے شمالی کوریا کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل تجربہ ’اشتعال انگیز‘ قدم اور ’بہت بڑی غلطی‘ ہو گی۔
جنوبی کوریا کی صدر پارک گیوئن ہائی، وزیر خارجہ اور ملک میں موجود امریکی فوجی کمانڈروں سے بات چيت کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’رواں سال تیسرا جوہری دھماکہ کرنے کے باوجود شمالی کوریا کو جوہری طاقت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل تجربہ جزیرہ نما کوریا میں پہلے ہی سے خطرناک صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔
جان کیری نے کہا کہ چین کا شمالی کوریا پر بہت اثرو رسوخ ہے اور چین کو چاہیے کہ وہ شمالی کوریا پر ایٹمی پروگرام ترک کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالے۔
امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے دورانِ پرواز صحافیوں کو بتایا تھا ’یہ بات کوئی راز نہیں کہ شمالی کوریا پر چین کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس اثر و رسوخ کو استعمال کرے کیونکہ بصورتِ دیگر یہ صورتحال پورے خطے کے لیے خطرناک ہے اور عدم استحکام کا باعث بنےگی۔‘
شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کے اپنے پروگرام کی وجہ سے عائد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے ردعمل میں حالیہ چند ہفتوں میں کئی مرتبہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کی دھمکی دی ہے۔







