برما: آگ لگنے سے تیرہ بچے ہلاک

رنگون کی ٹاؤن پولیس کے مطابق آگ بجلی میں فنی خرابی کی وجہ سے لگی۔
،تصویر کا کیپشنرنگون کی ٹاؤن پولیس کے مطابق آگ بجلی میں فنی خرابی کی وجہ سے لگی۔

برمام میں حکام کے مطابق رنگون شہر کے ایک سکول میں آگ لگنے کے نتیجے میں تیرہ بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے ترجمان تھیٹ لوین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ آگ رنگون شہر میں دو منزلہ عمات میں لگی جو ایک مسجد کا حصہ ہے اور جس میں تقریباً 75 یتیم بچے رہائش پذیر تھے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے عمارت کا دروازہ تھوڑ دیا جس کے ذریعے زیادہ تر بچے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق واقعے کے وقت زیادہ تر بچے سو رہے تھے۔

آگ بجھانے والے عملے نے آگ پر قابو پا لیا ہے اور عمارت بْری طرح جھل گیا ہے لیکن اس کا ڈھانچہ اب بھی قائم ہے۔

برما کی پولیس نے اپنے فیس بک کے صفحے پر کہا کہ زیادہ تر لوگ جھل جانے اور دم گھوٹنے سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان لڑکے شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق آگ لگنے کے بعد پولیس کے خصوصی دستے کو علاقے میں بھیج دیا گیا کیونکہ اس کو تخریبی کارروائی سمجھ کر بہت سے لوگ آگ لگنے والی عمارت کے باہر جمع ہو گئے تھے۔

ایک روپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ فسادات کی وجہ سے عمارت کے دروازوں کو اندر سے بند کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے بچوں کو آگ لگنے کے بعد عمارت سے نکلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رنگون کی ٹاؤن پولیس کی مطابق آگ کسی تخریبی کارروائی کی وجہ سے نہیں بلکہ بجلی میں فنی خرابی کی وجہ سے لگی ہے۔

آگ لگنے کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں بدھ مت کے پیروکاروں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

پر تشدد واقعات میں بیس مارچ سے اب تک چالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مانڈالے کے قصبے ميتِيلا میں بدھ مت کے پیروکاروں اور مسلمانوں کے درمیان پرتشدد واقعات کے بعد حکومت نے بائیس مارچ کو ایمرجنسی نافذ کی تھی۔

ان فسادات میں بڑی تعداد میں مکان تباہ ہوئے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ بے گھر ہونے والے زیادہ تر مسلمان تھے۔

ادھر ملک کے صدر تھان سین نے خبردار کیا ہے کہ عقائد کے مابین تفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔