’پاکستانی نژاد برطانوی خواتین سے جنسی زیادتی‘

لیبیا میں حکام کے مطابق دو برطانوی خواتین کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں خواتین اب واپس برطانیہ پہنچ چکی ہیں۔
دونوں خواتین کا کہنا ہے کہ وہ غزہ جانے والے ایک امدادی قافلے کا حصہ تھیں اور بن غازی واپس آتے ہوئے انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
لیبیا کے نائب وزیر اعظم اسد بن براصی کا کہنا ہے کہ ملک کے دوسرے بڑی شہر بن غازی میں نامعلوم افراد نے دو پاکستانی نژاد برطانوی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔
طرابلس میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق واقعے کے ایک دن بعد متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
لیبیا کے نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان دونوں خواتین سے ریپ کیا گیا جبکہ یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا جبکہ ان خواتین سے بات کرنے والے مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ خواتین کے مطابق ان سے جنسی زیادتی نہیں ہوئی ہے تاہم وہ طبی معائنے کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔
لیبیا میں برطانیہ کے سفیر مائیکل ایرون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کو خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں لیبیائی حکام ان سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔
اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے ایک لیبیائی اہلکار نے صرف اتنا بتایا کہ’کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں برطانوی خواتین سڑک کے راستے غزہ جانے والے ایک پانچ رکنی امدادی قافلے کا حصہ تھیں اور انہیں لیبیا کی سرحد سے مصر جانے کی اجازت نہیں ملی تو دونوں خواتین اور ان کے والد نے واپس بن غازی جانے کے لیے ایک ٹیکسی کرائے پر حاصل کی تاکہ برطانیہ واپس جانے کے لیے فلائیٹ حاصل کی جا سکے۔







