بنگلہ دیش: کارخانے میں آگ، سات خواتین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 27 جنوری 2013 ,‭ 21:28 GMT 02:28 PST

بنگلہ دیش میں چار ہزار پانچ سو کے قریب مختلف فیکٹریاں ہیں جن میں کم از کم بیس لاکھ افراد کام کرتے ہیں

بنگلہ دیش میں حکام کے مطابق ملک کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ملبوسات کے ایک کارخانے میں آگ لگنے سے سات خواتین اہلکار ہلاک ہو گئیں ہیں۔اس وقعے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد دس بتائی جا رہی جن میں چار کی حالت نازک ہے۔

آگ بجھانے والے عملے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کارکن باہر نکلنے کی کوشش میں بھگدڑ مچ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

آگ کی وجہ سے دو منزلہ عمارت کا اوپر والی منزل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

فائر بریگیڈ کے ایک سینئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فیکٹری کے پاس آگ سے بچاؤ کی حفاظتی انتظامات کا سرٹیفیکیت نہیں تھا۔

آگ لگنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ڈھاکہ میں دو مہینے پہلے ملبوسات بنانے والے ایک اور کارخانے میں آگ لگنے کی وجہ سے سو سے زائد کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

اخباری نمائندوں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہزاروں کی تعداد میں ملبوسات بنانے کے کارخانوں میں معیار کے مطابق حفاظتی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

بنگلہ دیش میں جو کے ملبوسات تیار کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے آگ لگنے سے انسانی جانوں کا ضیاع اکثر ہوتا رہتا ہے۔

ان حادثات کی بڑی وجہ حفاظت کے غیر معیاری انتظامات اور بجلی کی خستہ وائرنگ کے علاوہ چھوٹی عمارتوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کر کے کام کروانا شامل ہے۔

دو ہزار دس میں ایک اور ملبوسات کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں پچیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جس ک وجہ ناقص بجلی کی تاریں تھیں۔

بنگلہ دیش میں چار ہزار پانچ سو کے قریب مختلف فیکٹریاں ہیں جن میں کم از کم بیس لاکھ افراد کام کرتے ہیں۔

ملبوسات بنگلہ دیش کی برامدات کا اسی فیصد ہیں جن سے بنگلہ دیش سالانہ چوبیس بلین ڈالر کماتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>