ڈھاکہ: فیکٹری میں آتشزدگی، سو سے زائد ہلاکتیں

آخری وقت اشاعت:  پير 26 نومبر 2012 ,‭ 19:40 GMT 00:40 PST

بنگلہ دیش میں آگ لگنے سے ہر سال ہلاکتیں ہوتی ہیں جس کی وجہ بجلی کی ناقص وائرنگ اور حفاظت کے نامناسب انتظامات ہیں۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں حکام کے مطابق کم از کم ایک سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کئی تاحال لاپتہ ہیں۔

اس سے پہلے حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو بیس ہے تاہم بعد میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو بارہ بتائی گئی۔

حکام کے مطابق اب بھی بڑی تعداد میں افراد لاپتہ ہیں۔

آگ سنیچر کی رات کو نو منزلہ فیکٹری میں لگی جس کا نام تزرین فیشن بتایا گیا ہے جو کہ ڈھاکہ کے نواح میں اشولیا کے علاقے میں واقع ہے۔

بعض افراد کی ہلاکت انچائی سے گرنے کی وجہ سے ہوئی جب انہوں نے آگ سے بچنے کے لیے چھلانگ لگائی۔

ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ آگ کیسے لگی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ فیکٹری کی دوسری منزل پر لگی اور اس نے جلد پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے وجہ سے اوپر کی منزلوں میں موجود عملے کے بہت سارے افراد اس کی لپیٹ میں آگئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس آگ کے نتیجے آٹھ افراد ہلاک ہوئے لیکن تباہی کا منظر اس وقت سامنے آیا جب اتوار کی صبح امدادی کارکن آگ بجھنے کے بعد عمارت کے اندر داخل ہوئے۔

ڈھاکہ فائر بریگیڈ کے بریگیڈئیر جنرل ابو نعیم محمد شاہداللہ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کب بتایا کہ ’ہم نے اتوار کی صبح تلاش دوبارہ شروع کی اور فیکٹری کی مخلتف منزلوں پر ہمیں لاشیں ملیں۔‘

فائر بریگیڈئیر کے اعلیٰ اہلکار محمد محبوب نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ فیکٹری میں ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر فیکٹری میں باہر نکلنے کا ایک بھی راستہ ہوتا تو اس صورت میں ہلاکتوں کی تعداد بہت کم ہوتی۔

فیکٹری کے مالک دلاور حسین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ فیکٹری میں حفاظتی انتظامات نہیں تھے۔

دلاور حسین نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ میرے عملے اور میری فیکٹری کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، یہ پہلی بار ہے کہ میری سات فیکٹریوں میں سے کسی ایک میں آگ لگی۔‘

بنگلہ دیش جو کے ملبوسات تیار کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے میں آگ لگنے سے انسانی جانوں کا ضیاع اکثر ہوتا رہتا ہے۔

فیکٹری کے باہر عملے کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد جمع ہے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش جو کے ملبوسات تیار کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے میں آگ لگنے سے انسانی جانوں کا ضیاع اکثر ہوتا رہتا ہے۔

ان حادثات کی بڑی وجہ حفاظت کے غیر معیاری انتظامات اور بجلی کی خستہ وائرنگ کے علاوہ چھوٹی عمارتوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کر کے کام کروانا شامل ہے۔

دو ہزار دس میں ایک اور ملبوسات کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں پچیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جس ک وجہ ناقص بجلی کی تاریں تھیں۔

بنگلہ دیش میں چار ہزار پانچ سو کے قریب مختلف فیکٹریاں ہیں جن میں کم از کم بیس لاکھ افراد کام کرتے ہیں۔

ملبوسات بنگلہ دیش کی برامدات کا اسی فیصد ہیں جن سے بنگلہ دیش سالانہ چوبیس بلین ڈالر کماتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>