
بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ کے مضافات میں واقع اس فیکٹری میں آتشزدگی سے ایک سو دس ملازم ہلاک ہو گئے تھے۔
بنگلہ دیش کے سرکاری حکام کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ڈھاکہ کی ایک ملبوسات بنانے والی فیکڑی میں لگنے والی آگ تخریب کاری کا واقعہ تھا۔
بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ کے مضافات میں واقع اس فیکٹری میں آتشزدگی سے ایک سو دس ملازم ہلاک ہو گئے تھے۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تخریب کاری کا مقصد کیا تھا اور اس کارروائی میں کون ملوث تھا۔
تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فیکڑی کے مالک نے انتہائی لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔انھوں نے بتایا کہ فیکٹری میں کام کرنے والے درمیانہ درجے کے نو عہدیداروں نے ملازمین کو عمارت سے باہر نکلنے سے روکا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ فیکڑی کے مالک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
آتشزدگی کے واقعے کی تازہ ترین رپورٹ ابتدائی رپورٹ سے مختلف ہے جس میں آگ لگنے کی وجہ بجلی کے تاروں کا ناقص نظام بتایا گیا تھا۔
فائر سروس اور سول ڈیفنس کا حکام نے گزشتہ ہفتے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فیکڑی کے فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کی مدت جون میں ختم ہو گئی تھی۔ اس سے قبل فیکٹری کے مالک دلاور حسین نے عمارت کے غیر محفوظ ہونے کے الزام کی تردید کی تھی۔
بنگلہ دیش میں کپڑے بنانے کے بڑے کارخانوں میں آتشزدگی کے واقعات معمول کی بات ہے۔
بنگلہ دیش میں ملبوسات بنانے والے تقریباً چار ہزار پانچ سو کارخانے ہیں جن میں بیس لاکھ سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات کا اسی فیصد ٹیکسٹائل یا کپڑے سے بنی مصنوعات پر مشتمل ہے۔






























