
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو پل بنانے والے پروجیکٹ کے لیے مزید امداد تب تک نہیں دے سکتا جب تک بدعنوانی کے معاملات میں تفتیش نہ ہو
بنگلہ دیش کے شہر چٹا گانگ میں ایک زیر تعمیر پل گرنے سے خدشہ ہے کہ کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ پل ابھی زیر تعمیر تھا۔ پل گرنے کے بعد اب بھی کئی افراد اس کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
پولیس کے سب انسپکٹر محمد علاؤالدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اب تک تیرہ لاشیں ملیں اور زخمی اور ہلاک ہونے والے افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکن کام میں مصروف ہیں اور متاثرہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ بیس افراد اس وقت زخمی ہو گئے جب اس پل کے گرنے کے بعد مشتعل افراد نے اس پل کی تعمیراتی کمپنی کے دفتر پر حملہ کر دیا اور اس کے نتیجے میں ان کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو کارروائی کرنی پڑی۔
واضح رہے کہ ورلڈ بینک نے ستمبر کے مہینے میں کہا تھا کہ اسے بنگلہ دیش میں جاری بدعنوانی کی فکر ہے۔ ساتھ ہی ورلڈ بینک نے یہ بھی کہا تھا کہ بنگلہ دیش کو پل بنانے والے پروجیکٹ کے لیے تب تک مزید فنڈز نہیں ملیں گے جب تک اس پروجیکٹ میں ہوئی بدعنوانی کی شفاف اور قابل یقین تفتیش نہیں ہوتی ہے۔
عالمی بینک کا یہ بھی کہنا ہے ڈھاکہ کو ساحلی اضلاع سے جوڑنے کے لیے پدما روڈ اور ریل پل پروجیکٹ کے لیے تین ارب ڈالر کی امداد دینے کے لیے وہ ابھی تیار نہیں ہے۔






























