
امریکی صدر اوباما کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد یہ ان کی افغان صدر حامد کرزئی سے پہلی ملاقات ہو گی
افغان صدر حامد کرزئی منگل کو تین روزہ دورے پر امریکہ پہنچ رہے ہیں، امید کی جا رہی ہے کہ اُن کے اس دورے کے دوران امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں اہم فیصلے کے جائیں گے۔
امریکہ میں اپنے قیام کے دوران وہ جمعے کوامریکی صدر براک اوباما سے ملاقات بھی کریں گے جو امریکی صدر کی دوسری مدت میں اُن سے پہلی ملاقات ہو گی۔
مبصرین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں حالیہ تناؤ کی وجہ سے اس دورے کو بہت اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔
صدر کرزئی امریکی افواج کا افغان شہروں اور قصبوں سے انخلا چاہتے ہیں۔
منصوبے کے مطابق دو ہزار چودہ کے اختتام تک زیادہ تر غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں گی۔
وائیٹ ہاؤس نے اس دورے سے پہلے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا صدر اوباما صدر کرزئی کے ساتھ افغانستان میں موجودہ انتظامات کی منتقلی پر بات چیت کریں گے اور اس میں دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات بھی زیر بحث آئیں گے۔
کابل سے بی بی سی کے قوئنٹن سومر ولے کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ امریکی صدر افغانستان میں رہ جانے والی افواج کے بارے میں بات کریں گے اور یہ کہ کیا وہ طالبان کے ساتھ لڑیں گی یا اپنی توجہ القاعدہ سے لڑنے پر مرکوز کریں گی۔
دوسری جانب صدر کرزئی افغان فوج کی مستقبل کی ضروریات جیسا کہ بھاری فوجی سازوسامان، جدید فضائیہ اور طبی امداد کے بارے میں امداد کی درخواست کریں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق امریکہ نے دو ہزار گیارہ میں لگ بھگ ایک سو بیس بلین ڈالر افغانستان میں خرچ کیے ہیں۔ اس خرچ کے بارے میں سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے موجودہ معاشی حالات اور افغانستان میں شدید قسم کی بدعنوانی کے تناظر میں ان اخراجات کو جاری رکھنا اور ان کو درست ثابت کرنا امریکہ کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
افغان صدر امریکی فوجیوں کو ممکنہ عدالتی کاروائی سے استسثیٰ دینے کو تیار نہیں ہیں اور افغان سر زمین پر امریکی فوج کی جیلوں میں افغان قیدیوں کی موجودگی پر سخت ناخوش ہیں۔






























