
ووٹروں کی لمبی قطار جو ووٹ دینے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔
امریکہ کی ریاست ورجینیا ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں انتہائی اہم اور کانٹے کا مقابلہ ہوا ہے۔
آبادی کے حساب سے فیئرکیس کاؤنٹی ورجنیا ریاست کی سب سے بڑی کاؤنٹی ہے۔
اس کا اندازہ سرکاری عمارت میں قائم پولنگ سٹیشن میں کیا جا سکتا ہے، جہاں مقامی وقت کے مطابق تقریباً چھ بجے میں نے وہاں کا دورہ کیا۔
پولنگ سٹیشن پر لمبی لبمی قطاریں لگی تھیں، ایسا ظاہر ہو رہا تھا جیسے پاکستان میں سی این جی سٹیشن پر گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔
باہر ڈیموکریٹک اور رپبلکن جماعتوں کے رضا کاروں نے خیمے لگائے ہوئے تھے، اور وہ عمارت کے اندر داخل ہونے والے ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ہم کیمرے کے ساتھ اندر داخل ہوئے تو فیئرکیس کاؤنٹی کے ترجمان برائن وردی نے ہمیں میڈیا کے لیے بڑے سخت قوانین کے بارے میں بتایا۔
ایک، کہ ہم عمارت کے اندر ووٹروں سے انٹرویو نہیں لے سکتے۔ دوسرا کہ پولنگ بووتھ میں ہم کسی کی شکل نہیں فلما کر سکتے اور نہ ہی بیلٹ پیپر کی تصویر لے سکتے ہیں۔
امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرنا تو ہمارا مقصد نہیں تھا، تاہم، دس منٹ بعد پولنگ بوتھ کے اندر ایک صاحب نے ہمیں غصے سے کہا: "میری تصویر مت لیں"۔
جس پر پولنگ اہلکاروں نے ہمیں نکلنے کو کہا اور ہم دبے پاؤں باہر نکل آئے مگر ہمارے امریکی کیمرہ مین سکاٹ کو اس پر بہت غصہ آیا۔’اسے ایسا تو نہیں کرنا چاہیے تھا‘۔

فاطمہ نے پہلی بار امریکی الیکشن میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے کیونکہ انہیں کچط عرصہ پہلے ہی امریکی شہریت ملی ہے۔
سکاٹ امریکی ہیں اسی لیے انہیں غصہ کرنے کا حق ہے، مگر میں اور میرے ساتھی زبیر احمد کے پاس غیر ملکی ہونے کے ناطے شرافت کا مظاہرہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
یاد رہے کہ سن دو ہزار آٹھ میں صدر اوباما ورجنیا میں جیتے تھے، لیکن اس بار یہ کہنا مشکل ہے کہ اس اہم ریاست میں کون جیتے گا۔ تاہم، یہاں حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے جوش و جذبہ صاف ظاہر تھا۔
صبح کے وقت لوگ اپنے اپنے دفاتر جانے سے قبل تین تین گھنٹے کے لیے ووٹ ڈالنے کے لئے قطاروں میں کھڑے رہے۔ اور شام کے وقت دفتر بند ہونے کے بعد بھی بڑی بھیڑ جمع نظر آئی۔
اس سے قبل صبح کے وقت میں نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک کتب خانے میں قائم پولنگ سٹیشن کا دورہ کیا۔
ورجینیا کے برعکس، یہاں قطار چھوٹی تھی۔ بعض لوگ چھ بجے سے ووٹ ڈالنے آئے ہوئے تھے، اور بعض نے انٹرویو دینے سے منع کردیا کیونکہ انہیں ووٹ دینے کے بعد دفتر جانا تھا۔
انتظامی طور پر، امریکہ کے درالحکومت کو ڈسٹرکٹ کولمبیا کہا جاتا ہے۔ یہاں کی اکثریت ڈیموکریٹک جماعت کو ہی ووٹ ڈالتی ہے۔
عوامی جائزے سے تو مجھے یہ پہلے سے معلوم تھا، لیکن اس کی میں خود گواہ بنی جب پندرہ لوگوں سے بات کرنے کے بعد صرف دو نے کہا کہ انہوں نے مٹ رومنی کو اسی لیے ووٹ دیا ہے کیونکہ وہ طاقت ور مرکزی حکومت کے حق میں نہیں ہیں۔
اس دوران میری نظر ایک لڑکی پر پڑی جو سردی میں ٹھٹھر رہی تھی مگر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بھی تھی۔ بات کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کا تعلق پاکستان سے ہے اور اسے گذشتہ سال ہی امریکی شہریت حاصل ہوئی تھی۔
اس کی جیکٹ پر بڑے فخر سے اس نے ’میں نے ووٹ ڈالا‘ کا سٹکر لگایا ہؤا تھا۔ نور فاطمہ اٹھائیس برس کی ہیں اور تین سال پہلے ان کی ایک افغان لڑکے سے شادی ہوئی۔
نور نے مجھے بتایا کہ انہوں نے براک اوباما کو ہی ووٹ دیا تھا۔ ’ان کی پالیسیاں خواتین کے حق میں بہتر ہیں اور وہ دیگر ممالک سے نرمی سے پیش آتے ہیں۔ وہ جنگجو نہیں ہیں‘۔
جب ہماری بات چیت ختم ہوئی تو نور نے مجھے اپنی ووٹنگ سائن کے ساتھ تصویر لینے کو کہا۔ اس وقت تک ہم دونوں کے ہاتھ برف جیسے ٹھنڈے ہو چکے تھے۔
قریب میں ایک کیفے میں نور اور میں نے سردی دور کرنے کے لیے کافی پی اور پھر واشنگٹن کے حلال ریسٹورنٹس کے بارے میں کچھ باتیں کیں۔
اس طرح اجنبی ملک میں، کچھ دیر کے لیے، پاکستانی مہمان نوازی اور اپنایت کا احساس ہوا۔






























