
افغان اہلکاروں کی جانب سے نیٹو فوجیوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے
برطانوی محکمۂ دفاع نے افغان نیشنل آرمی کے ایک مشتبہ رکن کی فائرنگ سے ایک برطانوی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع نہرِ سراج میں پیر کو پیش آیا
ہلاک ہونے والے فوجی کا تعلق اٹھائیسویں انجینیئر رجمنٹ سے بتایا گیا ہے۔
فوجی حکام کے مطابق اس واقعے میں حملہ آور کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔
اس سے قبل ایساف نے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں افغان فوج کی وردی میں ملبوس ایک شخص کی فائرنگ سے اتحادی فوج سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار کی ہلاکت کی خبر دی تھی۔
ایساف کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور کے شدت پسندوں سے ممکنہ تعلقات کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
افغانستان میں گزشتہ برس کے دوران افغان فوج کے اہلکاروں کی جانب سے نیٹو اور اتحادی فوجیوں پر حملوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔
.یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب افغان صدر حامد کرزئی مستقبل کے افغانستان میں امریکی اہلکاروں کی موجودگی پر امریکی صدر سے بات چیت کے لیے امریکہ پہنچنے والے ہیں۔
صدر کرزئی امریکہ کے تین روزہ دورے کے دوران جمعہ کو براک اوباما سے ملیں گے۔ یہ دوسری مدت کے لیے انتخاب کے بعد امریکی صدر کی افغان ہم منصب سے پہلی ملاقات ہوگی۔
حامد کرزئی چاہتے ہیں کہ امریکی فوج افغان قصبات اور دیہات سے نکل جائے۔ زیادہ تر غیر ملکی افواج سنہ 2014 کے آخر تک افعانستان سے چلی جائیں گی۔
کابل میں بی بی سی کے کوئنٹن سمرویل کا کہنا ہے کہ امکان یہی ہے کہ کرزئی اوباما ملاقات میں امریکی صدر 2014 کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے امریکیوں کی تعداد پر بات کریں گے اور یہ کہ بقیہ فوج طالبان سے لڑائی میں شریک ہو گی یا پھر اس کا مقصد القاعدہ سے نمٹنا ہوگا۔
حامد کرزئی کے اس دورے سے قبل وائٹ ہاؤس نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما ’افغانستان سے جاری انخلاء اور دونوں ممالک کی شراکت کو مضبوط کرنے کے خیال پر بات چیت کے متمنی ہیں۔‘






























