
صدر کرزئی کا کہنا ہے کہ معاہدے کے باوجود امریکہ نے ابھی بھی بگارم کے انتظام کو چھوڑا نہیں ہے
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ بگرام جیل کو افغان حکام کے حوالے کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
صدر کرزئی نے یہ بات اتوار کی رات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی۔
ان کا بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب دونوں ممالک 2014 میں افغانستان سے نیٹو کی قیادت والی غیر ملکی فوج کے انخلا کے بعد کے وقت کے لیے افغانستان میں رہنے والی امریکی افواج سے متعلق ایک نئے سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
صدر کرزئی نے بیان میں کہا کہ امریکہ پہلے طے ہونے والے معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے افغانستان میں ابھی بھی شہریوں کو حراست میں لے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی یہ کارروائی بگرام کے انتہائی سکیورٹی کے جیل سے متعلق معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس معاہدے کے تحت بگرام کے امور کو امریکہ نے دس ستمبر کو افغانستان کے کلِک حوالے کر دیا تھا ۔ اس کے بعد سے بگرام کی جیل کو افغانستان کے زیر انتظام ہونا تھا اور اس عمل کی تکمیل کے لیے دو مہینے کی مدت مقرر کی گئی تھی۔
افغان صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دو مہینے کے گزر جانے کے بعد یہ عمل پورا نہیں ہوا ہے اور اب انہوں نے اپنے وزیر دفاع، اٹارنی جنرل اور بگرام کے چیف کمانڈر کو حکم دیا ہے کہ وہ جیل امور کے انتظام کو پوری طرح سے افغان حکام کے تحت کر دیں۔
صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ نہ صرف عدالتوں سے بری ہو جانے والے بگرام کے قیدوں کو رہا نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ امریکی فوج نئے قیدیوں کو بھی بگرام میں بند کر رہی ہے۔
افغان صدر کے بیان پر امریکہ کا کوئی فوری رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔






























