’فلسطینی حکومت گرانے کا اسرائیلی منصوبہ‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 15:51 GMT 20:51 PST

محمود عباس چاہتے ہیں کہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے والے حدود کی بنیاد پر فلسطین کو اقوم متحدہ میں غیر ممبر آبزرور کی حیثیت سے داخل کیا جائے

اسرائیل کے دفتر خارجہ نے ایک سرکاری دستاویز میں مشورہ دیا ہے کہ اگر اقوامِ متحدہ فلسطین کو بطور غیر رکن ملک شامل کرنے پر تیار ہو تو صدر محمود عباس کی حکومت گرا دی جائے۔

اس خفیہ دستاویز کے مطابق اگر فلسطین کو اقوام متحدہ میں شمولیت سے باز رکھنے کی دوسری کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو محمود عباس کی حکومت کا تختہ پلٹنا واحد راستہ ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس انتیس نومبر کو جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کے غیر رکن ملک کی حیثیت سے شمولیت کے لیے درخواست کریں گے۔

اسرائیل اور امریکہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی شمولیت کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام صرف بات چیت سے ہو سکتا ہے۔

سکیورٹی کونسل میں حمایت نہ ہونے کی وجہ سے فلسطین کی طرف سے اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کی کوشش دو ہزار گیارہ میں ناکام ہوگئی تھی ۔

اسرائیل کے ساتھ بات چیت کرنے والی فلسطین کے مختلف گروپوں کی نمائندہ تنظیم تحریک آزادئ فلسطین کو اقوام متحدہ میں فی الحال مستقل مبصر کی حیثیت حاصل ہے۔

محمود عباس تحریک آزادئ فلسطین اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے والی حدود کی بنیاد پر فلسطین کو اقوم متحدہ میں غیر رکن مبصر کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔

1967 کی جنگ میں اسرائیل نے غربِ اردن، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔

اسرائیل کے دفتر خارجہ کے اس سرکاری دستاویز کی کاپی بی بی سی کو بھی موصول ہوئی ہے۔

اس دستاویز کو اسرائیل کے وزیر خارجہ اویگڈور لائبرمین نے ابھی تک منظور نہیں کیا تاہم چینل ٹن ٹی وی نے ان کے حولے سے بتایا کہ اگر فلسطین کی اقوام متحدہ میں شامل ہونے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو وہ فلسطینی اتھارٹی کوگرانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

دستاویز میں دی گئی تجاویز

دستاویز میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر فلسطین اقوام متحدہ میں شمولیت کی کوششیں ترک کر دے تو اسرائیل کو اس کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہیے جس کے تحت، ایک ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کی سرحدیں اس وقت تک عارضی ہوں جب تک عرب ممالک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ فلسطین میں انتخابات ہوں اور غربِ اردن اور غزہ کے تعلقات کی وضاحت ہو۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے ماضی میں کہا تھا کہ محمود عباس ایک ’رکاوٹ‘ ہیں جسے ہٹانا ضروری ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ تسلیم کرتی ہے تو اس سے اسرائیل کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچے گا اور اس کی وجہ سے اسرائیل کے لیے مستقبل میں ہونے والے کسی بھی امن معاہدے کو تسلیم کرنا بہت مشکل ہوگا۔

دستاویز کے مطابق محمود عباس کی حکومت کوگرانے کے بھی اسرائیل کو نتائج بھگتنے پڑیں گے لیکن ان کی حکومت کو گرانا شاید واحد راستہ ہوگا۔

دستاویز میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر فلسطین اقوام متحدہ میں شمولیت کی کوششیں ترک کر دے تو اسرائیل کو اس کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہیے جس کے تحت، ایک ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کی سرحدیں اس وقت تک عارضی ہوں جب تک عرب ممالک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ فلسطین میں انتخابات ہوں اور غربِ اردن اور غزہ کے تعلقات کی وضاحت ہو۔

اسرائیل کے وزارت خارجہ کے ترجمان لائیر بن ڈور نے بی بی سی کو بتا کہ اگر محمود عباس اقوام متحدہ میں شمولیت کی کوشش جاری رکھتے ہیں تو وہ 1993 کے اوسلو معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر فلسطین اقوام متحدہ کا غیررکن مبصر ملک بن گیا تو پھر فلسطین اسرائیل کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کے لیے عالمی عدالت برائے جرائم سے درخواست کر سکتا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ایسے حالات میں اسرائیل اپنے مفاد کا دفاع کرے گا۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ دفاع کرنے کے لیے کیا اقدمات اٹھائے جائیں گے۔

فلسطینی صلاح کار صائب ارکات نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اسرائیلی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور یہ خارج ازامکان نہیں کہ صدر محمود عباس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔

صدر محمود عباس نے پیر کو کہا کہ وہ امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم اقوام متحدہ کی ووٹنگ کے بعد بات چیت کا کوئی سلسلہ شروع کر سکتے ہیں تو ہم کریں گے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>