
آتش زدگی کے واقعے کے بعد انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی تصویر
سعود عرب میں حکام کے مطابق ملک کے مشرقی علاقے میں ایک شادی کی تقریب کے دوران آگ لگنے سے کم از کم پچیس افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ ابقیق کے ایک گاؤں این بدر میں پیش آیا۔ جس وقت آگ لگی اس وقت گھر کے صحن میں سینکڑوں افراد جمع تھے۔
اطلاعات کے مطابق شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ سے مبینہ طور پر ایک ہائی والٹیج پاور لائن گر پڑی اور اُس سے نکلنے والی چنگاریوں سے آگ لگی۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاور لائن صحن کے بیرونی دھاتی دروازے سے بھی ٹکرائی اور کئی لوگ کرنٹ لگنے کے باعث ہلاک ہوئے۔
اس حادثے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔
ایک مقامی اخبار الیوم نے سول ڈیفنس چیف جنرل عبداللہ خوشیماں کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک شامیانے کو آگ لگی جس میں صرف خواتین موجود تھیں۔
سعودی ریاست کے سخت قانون کے مطابق شادیوں میں خواتین و مرد حضرات کے لیے بیٹھنے کا علیحدہ علیحدہ انتظام کیا جاتا ہے۔
حادثے کے بعد انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بڑے صحن میں کُرسیاں بکھری پڑی ہیں۔
زخمی ہونے والوں کو آمارکو اور سینٹرل ابقیق ہسپتالوں میں داخل کروا دیا گیا ہے۔
سول ڈیفنس کے ترجمان کرنل محمد العجمی کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبے کے گورنر شہزادہ محمد بن فہد بن عبدالعزیز نے حکام کو واقعے کی تحقیقات کا حُکم دیا ہے۔
سعودی حکام نے گذشتہ ماہ شادیوں میں آتش بازی پر پابندی عائد کی تھی، جو قبائلی علاقوں میں مقبول رواج ہے ۔
سنہ انیس سو ننانوے میں بھی سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں 76 افراد ہلاک ہوئے تھے۔






























