
اٹلی کے سابق وزیراعظم سلویو برلسکونی نے وزیراعظم ماریو مونٹی کے سربراہی میں قائم ٹیکنو کریٹس کی حکومت کو گرانے کی دھمکی دی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت کابینہ اٹلی کو پیچ دار کساد بازاری کی جانب لے جا رہی ہے اور ان کی سینٹر رائٹ جماعت پی ڈی ایل آئندہ آنے والے دنوں میں طے کریں گی کہ آیا موجودہ حکومت کی حمایت واپس لی جائے یا نہیں۔
پی ڈی ایل اس وقت پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت ہے اور حکومت کی حمایت واپس لینے کے صورت میں ملک میں قبل از وقت انتخابات ہو سکتے ہیں۔
سابق وزیراعظم کو گزشتہ سال اپنا عہدہ چھوڑے پر مجبور کیا گیا تھا۔
اس سے پہلے برسلکونی کا کہنا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں سیاست میں رہنا چاہیے۔
انہیں ایک دن پہلے جمعہ کو سلویو برلسکونی کو ٹیکس فراڈ کے ایک مقدمے میں میلان کی ایک عدالت نے چار سال قید کی سزا سنائی گئی جسے بعدازاں کم کر کے ایک سال کر دیا گیا تھا۔
برسلکونی کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ انصاف کے نظام میں اصلاحات لائیں تاکہ جو ان کے ساتھ ہوا وہ دوسرے شہریوں کے ساتھ نہ ہو۔
اس کے بعد انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ وزیراعظم کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
انہوں نے سنیچر کو ٹی جی فائیو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتائج برآمد ہونگے اور میں محسوس کرتا ہو کہ وہ مجھے سیاست کے میدان میں رہنا چاہتے ہیں۔
جمعہ کو اپنی سزا کے مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ عدالت کی جانب سے ہراساں کرنے کی ناقابلِ برداشت کوشش‘ ہے۔
اس سے پہلے سابق وزیراعظم سلویو برلسکونی کے وکلاء کے مطابق وہ ٹیکس فراڈ کے جرم میں ملنے والی ایک برس قید کی سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔
اطالوی ذرائع ابلاغ کے مطابق وکلاء دس نومبر تک یہ اپیل دائر کریں گے اور اس پر فیصلہ ہونے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔
جمعہ کو سلویو برلسکونی کو ٹیکس فراڈ کے ایک مقدمے میں میلان کی ایک عدالت نے چار سال قید کی سزا سنائی گئی جسے بعدازاں کم کر کے ایک سال کر دیا گیا تھا۔
انہیں پانچ سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا ہے۔
برلسکونی اور ديگر افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی فلم کے حقوق قیمت سے زیادہ داموں میں دو غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے خریدے تھے۔اطلاعات کے مطابق یہ دونوں کمپنیاں ان کےکنٹرول میں تھیں۔
واضح رہے کہ برلسکونی گذشتہ بیس برس سے اٹلی کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں جبکہ اس کیس کی سماعت چھ سال قبل شروع ہوئی تھی۔
اس سے سابق وزیراعظم کو تین مختلف مقدمات کا سامنا تھا اور وہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑنے کے بعد پہلی بار کسی مقدمہ میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔






























