
امریکی کے صدر براک اوباما نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عدم برداشت اور عالمی شدت پسندی کی مذمت کی ہے۔
امریکی صدر اوباما نے اپنے خطاب میں واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے امریکہ ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔
نیویارک میں منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کا موضوع حاوی رہے گا۔
امریکی صدر نے اپنی تقریر میں اسلام مخالف فلم کے خلاف ہونے والے تشدد کی بھی مذمت کی۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہر عالمی رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھرپور انداز میں تشدد اور انتہاپسندی کی مذمت کرے۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں لیبیا کے لیے امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیفن کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہیں بن غازی میں مظاہرین نے ہلاک کر دیا تھا۔
امریکی صدر نے اپنی کی تقریر میں کہا کہ ’ ہمارے مستقبل کا تعین کرسٹوفر سٹیفن جیسے لوگوں سے ہوتا ہے ان کے قاتلوں جیسے لوگوں سے نہیں۔‘
امریکی صدر نے کہا ’ آج ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ تشدد اور عدم برداشت کی اقوامِ متحدہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف بننے والے امریکی فلم کے جواب میں مسلم دنیا میں پھیلنے والے پرتشدد احتجاج، ایران کا جوہری پروگرام اور شام میں اٹھارہ ماہ سے جاری لڑائی کے موضوعات حاوی رہیں گے۔
امریکی صدر اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ ’امریکی حکومت ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ہر وہ اقدام کرے گی جو ضروری ہے۔‘
تقریب سے افتتاحی خطاب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے شام میں جاری لڑائی کو ایک ’علاقائی سانحہ قرار دیا جس کے اثرات عالمی ہوں گے‘۔
انہوں نے اس معاملے میں منقسم سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ’ ایسے میں جب تشدد اختیار سے باہر ہو رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ’ شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی مسلسل ہو رہی ہے حکومت کی جانب سے بھی اور حزبِ مخالف کی فورسز کی جانب سے بھی‘






























