براک اوباما کی مٹ رومنی پر تنقید

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 11:04 GMT 16:04 PST
اوباما، لیٹرمین

صدر اوباما نے لیٹرمین کے چاٹ شو میں رومنی پر تنقید کی ہے

امریکی صدر براک اوباما نے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مٹ رومنی پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ جو شخص ملک کا صدر بننا چاہتا ہو اسے سبھی امریکیوں کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹی وی کے معروف میزبان ڈیوڈ لیٹرمین کے شو میں بات کرتے ہوئے مسٹر اوباما نے کہا کہ یہ کہنا قطعی غلط ہے کہ سینتالیس فیصد امریکی اپنے آپ کو وکٹم یعنی مظلوم سمجھتے ہیں۔

ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مٹ رومنی کو ایک خفیہ ویڈیو میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ووٹروں کو ’مظلوم‘ قرار دیتے ہوئے سنا گيا تھا۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے ووٹروں کو مظلوم کہنے پر مٹ رومنی کو تنقید کا سامنا ہے۔

لیکن مسٹر رومنی نے خفیہ ریکارڈ کیےگئے ویڈیو میں اپنے بیان کا دفاع کیا ہے۔ اس بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ تقریبا سینتالیس فیصد امریکی جو ٹیکس ادا نہیں کرتے وہ حکومت کی امداد کے مرہون منت ہیں اور وہ اوباما کے حامی ہیں جو انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔

لیٹرمین کے چیٹ شو میں براک اوباما نے کہا کہ دو ہزار آٹھ میں الیکشن کی رات کو ہی انہوں نے امریکہ کو بتا دیا تھا کہ وہ سبھی لوگوں کے لیے ، بشمول ان کے جنہوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا، کام کریں گے۔

ان کا کہنا تھا ’بطور صدر میں نے ایک چیز سیکھی ہے کہ آپ تمام ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘

مٹ رومنی کی خفیہ ریکارڈنگ کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جس پر کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی ہو رہی ہے اور امریکہ میں اس پر زبردست بحث ہو رہی ہے۔

لیکن مٹ رومنی نے اپنا بیان واپس لینے کے بجائے فوکس نیوز سے بات چيت میں اس کا دفاع کیا اور کہا ہے کا ان کا بیان انتخابی مہم سے متعلق تھا۔

ریپبلیکن امیدوار مٹ رومنی صدر براک اوبامہ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں

ان کا کہنا ہے ’میں ایک فرد واحد کے نظریے سے بات کر رہا تھا جو شاید میری حمایت نہ کرے۔ وہ لوگ جو حکومت پر منحصر ہیں اور جن کا خیال یہ ہے کہ حکومت کا کام دوسروں سے لے کے انہیں دینا ہے، انہیں میں نہیں پا سکوں گا۔‘

مٹ رومنی کا کہنا ہے کہ انتخابات میں اوباما کو نصف ووٹ تو اسی طرح کے لوگوں ملنے والا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد ٹیکس ادا کرنے کے لائق اس لیے نہیں ہے کہ وہ غربت کا شکار ہوگئے ہیں۔

اس خفیہ ویڈیو کی جو مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق مسٹر رومنی کا کہنا ہے کہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن نہیں چاہتے اور اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ مسئلہ فلسطین پر زیادہ توجہ نہیں دیں گے۔

امریکہ کے لبرل میگزین ’مدر جونز‘ نے فلسطین کے حوالے سے ان کی گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ کی تفصیل شائ‏‏ع کی ہیں۔

الیکشن مہم کے دوران فنڈ اکھٹے کرنے کے لیے ایک تقریب میں مٹ رومنی سے جب سوال پوچھا گیا کہ کیا فلسطین کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو انہوں نے جواباً کہا :’فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

لیکن فلسطین کے مذاکرات کار صائب ارکات نے مسٹر رومنی کے اس بیان پر بھی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امن نہ ہونے کے لیے فلسطینیوں کو ذمہ دار قرار دینا قط‏ی غلط ہے۔ ’صرف وہ لوگ جو اسرائیل کے قبضے کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں وہی یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ فلسطینی امن میں دلچسپی نہیں رکھتے۔‘

لیکن فلسطینیوں کے خلاف مٹ رومنی کا یہ موقف نیا نہیں ہے۔ جولائی میں جب انہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تو انہوں نے یورشلم کو یہودی ریاست کا دارالخلافہ قرار دے کر فلسطینیوں کو انتہائی ناراض کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>