آگے کا سفر آسان نہیں ہوگا، اوباما

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 09:10 GMT 14:10 PST
باراک اوباما

باراک اوباما کا کہنا تھا کہ مستقبل میں امریکہ میں اہم فیصلے کیے جانے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدر کے عہدے کی نامزدگی کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام کو آئندہ انتخابات میں اپنی زندگی کے اہم فیصلے کا سامنا ہوگا۔

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر براک اوباما کو دوبارہ صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے جو انہوں نے منظور کر لیا ہے۔

شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر براک اوباما نے دوسری بار منتخب ہونے کی صورت میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، قرض میں کمی اور امریکی معیشت کو مضبوط بنیاد دینے جیسے ہدف مقرر کیے ہیں۔

براک اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’گزشتہ دس سالوں میں ملک کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور ان مسائل کا حل ایک لمحے میں نہیں کیا جاسکتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نومبر میں جب ووٹ ڈالے گے ’ تو ان کے سامنے زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہوگا‘۔

براک اوباما نے کہا کہ ان کی پارٹی اور رپبلیکن پارٹی کی پالیسیوں میں اہم فرق ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایک دیگر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ریپلیکنز کی طرف سے اپنے حریف مِٹ رومنی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ گھڑی کا رخ پیچھے کی طرف موڑ دیں گے۔‘

"آنے والے چند برسوں میں واشنگٹن میں بڑے فیصلہ ہوں گے۔ یہ فیصلے روزگار، معیشت، کساد بازاری اور مالی نقصان سے متعلق ہوں گے۔ اس کے علاوہ طوانائی، تعلیم، جنگ اور امن کی بحالی کے بارے میں فیصلے ہوں گے۔ ان فیصلوں کا ہماری اور ہمارے بچوں کی زندگی پر اہم اثر پڑے گا۔"

براک اوباما

اوباما نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’آپ نے مجھے یہ کہنے کے لئے نہیں منتخب کیا کہ آپ کیا سننا چاہتے ہیں، آپ نے مجھے منتخب کیا تا کہ میں آپ سے سچ کہہ سکوں۔‘

براک اوباما نے کہا، ’ آنے والے چند برسوں میں واشنگٹن میں بڑے فیصلہ ہوں گے۔ یہ فیصلے روزگار، معیشت، کساد بازاری اور مالی نقصان سے متعلق ہوں گے۔ اس کے علاوہ توانائی، تعلیم، جنگ اور امن کی بحالی کے بارے میں فیصلے ہوں گے۔ ان فیصلوں کا ہماری اور ہمارے بچوں کی زندگی پر اہم اثر پڑے گا‘۔

اوباما نے اسے چیلنج بھرا راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں سے امریکہ بہتر بنے گا۔ انہوں نے صدر کے عہدے کے لیے ہونے والے آئندہ انتخابات کو امریکہ کے مستقبل سے جوڑا اور کہا ہے کہ اس میں دو بالکل مختلف زاویوں میں کسی ایک کا انتخاب ہوگا۔

اوباما نے اس وقت وہ عوام کو ایک صدر کی حیثیت سے خطاب کررہے ہیں اور وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے جو وعدے کیے تھے ان پر سست روی سے عمل ہورہا ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کساد بازاری انہیں وراثت میں ملی تھی۔

تاہم انہوں نے بین الاقوامی سیاست میں اپنی کامیابیوں پر زور دیا اور کہا کہ انہوں نے عراق جنگ کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کردیا گیا اور افغانستان سے بھی دو ہزار چودہ میں فوج کو بلا لیا جائے گا۔

اوباما کی تقریر کو ٹی وی پر نشر کیا گیا جس کو امریکہ کے کروڑوں عوام نے دیکھا جن میں سے بیشتر نے ابھی یہ طے نہیں کیا ہے کہ وہ صدر کے عہدے کے لیے کسے اپنا ووٹ دیں گے۔

انتخابات سے پہلے ہونے والے جائزوں میں پایا گيا ہے کہ براک اوباما کو مٹ رومنی سے کڑی ٹکر مل رہی ہے۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات نومبر میں ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>