
چین میں کئی جگہوں پر جاپان کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں
چین میں متنازع جزیروں کے مسئلے پر جاپان مخالف مظاہروں کے بعد الیکٹرانک مصنوعات تیار کرنے والی جاپانی کمپنی نے اپنے بعض آپریشن بند کر دیے ہیں۔
چین میں ان مظاہروں کے دوران پیناسونک کمپنی کی دو فیکٹریوں پر حملےکیے گئے ہیں اور پیناسونک کے مطابق کیونڈاو میں اس کی فیکٹری اٹھارہ ستمبر تک بند رہے گی۔
اطلاعات کے مطابق کیمرہ اور دیگر الیکٹرانک اشیاء بنانے والی معروف کمپنی کینن نے بھی چین میں اپنی تین فیکٹریوں میں کام روک دیا ہے۔
پیناسونک کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی آئندہ دو دن تک صورتحال پر نظر رکھے گی۔
چین میں جاپان کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران کاریں تیار کرنے والی کمپنی ٹویوٹا سمیت دیگر جاپانی کمپنیوں پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ جاپان کی جانب سے چین کے مشرقی سمندری علاقے میں متنازع جزیروں میں سے بعض کو ان کے نجی مالک سے خریدنے کے معاہدے کے بعد چین میں جاپان مخالف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
ان جزیروں کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ کے دوران چین اور جاپان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ چین نے گزشتہ دنوں ان متنازع جزیروں پر نگرانی کرنے والے چھ بحری جہاز بھی روانہ کیے تھے۔
ان متنازع جزیروں کو جاپان میں سینکاکو اور چین میں دیایو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مسئلے پر جاپان مخالف احتجاج کے دوران جاپانی دوکانوں کے علاوہ جاپان میں بنی کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
چین کے شہر زیان سے ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین نے ان سے ان کا کیمرہ اس لیے چھین لیا کیونکہ وہ ایک جاپانی کیمرہ ہے۔
مبصرین کے مطابق چین میں جاپان کی تجارتی مراکز پر حملے سے ملک میں جاپانی سرمایہ کاری کے خاطر خواہ نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق کم اجرت پر مزدوروں کی دستیابی کی وجہ سے چین میں لوگ بڑی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
لیکن حالیہ دنوں میں چین نے مزدوری میں اضافہ کیا ہے اس سے خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں چين کو جو ایڈوانٹیج حاصل تھا اس پر منفی اثر پڑا ہے اور حالیہ احتجاجی لہر سے جاپان سرمایہ کاری کے لیے چين کے عوض متابادل جگہوں کو تلاش کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے پر تشدد مظاہروں سے دونوں کے ملکوں کے تجارتی روابط متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔






























