
امریکی وزیر دفاع نے تنبیہ کی کہ کسی غلط فیصلے کے نتیجے میں یہ تنازع تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے
امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے چین اور جاپان کے درمیان جاری تنازعے کے بارے میں تنبیہ کی ہے کہ اگر اشتعال انگیز سرگرمیاں کم نہ کی گئیں تو یہ تنازع بڑھ کر ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر کے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
لیون پنیٹا جو کہ ایشیا کے بعض ممالک کے دورے کا آغاز کر رہے نے تنبیہ کی کہ ’کسی ایک جانب سے ایک غلط فیصلہ تشدد کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔‘
پنیٹا کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب چین کے مشرقی سمندری علاقے میں متنازع جزیرے کے مسئلے پر تنازعے کے پیش نظر چین کے مختلف شہروں میں جاپان مخالف مظاہرے ہورہے ہیں۔
اپریل کے مہینے میں ان جزیروں پر اس وقت نیا تنازع شروع ہوا تھا جب ٹوکیو کے گورنر شنتارو اشیہار نے یہ کہا کہ وہ عوام کے پیسے سے یہ جزیرہ خرید لیں گے۔
اس کے بعد جاپان نے اپنے ہی شہری سے ان میں سے تین جزیرے خریدنے کے معاہدے پر دستخط کردیے جس کے بعد اس ہفتے کی شروعات میں چین کے نگرانی کرنے والے چھ بحری جہاز ان متنازع جزیروں کے قریب پہنچ گئے تھے۔
"مجھے فکر ہے کہ جب یہ ممالک ایک یا دوسری قسم کی اشتعال انگیزی میں ملوث ہوں گے ان کئی جزیروں پر تو اس کے نتیجے میں ایک جانب یا دوسری جانب سے غلط فیصلے کا امکان بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں تشدد اور تصادم کی صورت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔"
لیون پنیٹا
اگرچہ چین کا کہنا تھا کہ یہ جہاز جزیروں پر قانون نافذ کرنے کے مقصد سے گئے تھے۔
جاپان کے وزیر اعظم ہوشی ہیکو نوڈا نے کہا ہے کہ چین کی حکومت جاپان کے شہریوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں بات کرتے ہوئے لیون پنیٹا نے کہا کہ ’مجھے فکر ہے کہ جب یہ ممالک ایک یا دوسری قسم کی اشتعال انگیزی میں ملوث ہوں گے ان کئی جزیروں پر تو اس کے نتیجے میں ایک جانب یا دوسری جانب سے غلط فیصلے کا امکان بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں تشدد اور تصادم کی صورت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔‘
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ وہ اپنے دورے کے دوران ٹوکیو اور بیجنگ سے ضبط و تحمل سے کام لینے کی اپیل کریں گے اسی طرح انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت ایشیا کے جغرافیائی تنازعوں میں کوئی مؤقف نہیں رکھےگی۔
ان جزیروں کو تائیوان بھی اپنی حدود کے اندر مانتا ہے حالانکہ ان پر جاپان کا قبضہ ہے۔
"ہم اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔ لیکن ہم ضبط و تحمل سے کام لیں گے۔ جاپان چین سے بھی ایسا ہی کرنے کے لیے کہے گا۔"
جاپانی وزیر اعظم
اتوار کو کئی سو مظاہرین نے بیجنگ میں واقع جاپانی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا جنہیں قابو کرنے کے لیے پولیس نے کارروائی کی۔
اطلاعات کے مطابق مظاہرین چین میں موجود جاپانی دوکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جاپانی وزير اعظم ہوشی ہیکو نوڈا نے کہا ہے ’ہم چاہتے ہیں کہ چین حالات پر نظر رکھے اور اس بات کی یقین دہانی کرائے کی چین میں موجود جاپانی شہری کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا‘۔
جاپان کی کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق ہوشی ہیکو نوڈا کا کہا تھا ’ہم اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔ لیکن ہم ضبط و تحمل سے کام لیں گے۔ جاپان چین سے بھی ایسا ہی کرنے کے لیے کہے گا‘۔
اطلاعات کے مطابق اتوار کو چین کے مختلف شہروں میں جاپان مخالف احتجاج ہوئے ہیں۔
جاپان مخالف احتجاج کے دوران جاپانی دوکانوں کے علاوہ جاپان میں بنی کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔چین کے شہر زیان سے ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین نے ان سے ان کا کیمرہ اس لیے چھین لیا کیونکہ وہ ایک جاپانی کیمرہ ہے۔































