
جاپانی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جاپانی کوسٹ گارڈ کی تنبیہ کے بعد دو جہاز واپس چلے گئے
چین کے نگرانی کرنے والے چھ بحری جہاز اس متنازع جزیروں کے قریب پہنچ گئے ہیں جن پر چین اور جاپان دونوں کا دعویٰ ہے۔
ان جزیروں کو جاپان میں’سینکاکو‘ اور چین میں ’دیایو‘ کا نام سے جانا جاتا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ یہ جہاز جزیروں پر قانون نافذ کرنے کے مقصد سے گئے تھے۔
جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ جاپانی کوسٹ گارڈز کی جانب سے وارننگ کے بعد دو بحری جہاز واپس چلے گئے۔
چین کی جانب سے یہ قدم ایک ایسے وقت پر اٹھایا گیا ہے جب جاپان نے ایک نجی جاپانی شہری سے ان میں سے تین جزیرے خریدنے کے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔
چین کے مشرقی سمندری علاقے میں واقع ان جزیروں کی وجہ سے گذشتہ چند ماہ میں چین اور جاپان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ان جزیروں کو تائیوان بھی اپنی حدود کے اندر مانتا ہے حالانکہ ان پر جاپان کا قبضہ ہے۔
اپریل کے مہینے میں ان جزیروں پر اس وقت نیا تنازع شروع ہوا تھا جب ٹوکیو کے گورنر شنتارو اشیہار نے یہ کہا کہ وہ عوام کے پیسے سے یہ جزیرہ خرید لیں گے۔
جاپانی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے روانہ کیے گئے پہلے دو بحری جہاز مقامی وقت کے مطابق چھ بج کر اٹھارہ منٹ پر جزیروں کے قریب پہنچے۔ ان دو بحری جہازوں کے پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد سات بجے چار مزید جہاز جزیروں کے قریب پہنچے۔
ایک رپورٹ کے مطابق دو بحری جہازوں نے علاقہ چھوڑ دیا ہے جب کہ تیسرا جہاز جمعے کی صبح واپس چلا جائے گا۔ جاپانی حکام کے مطابق ایسا کرنے کے لیے جاپان کی جانب سے زبردستی نہیں کی گئی ہے۔
جاپانی کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’ہماری کشتیاں فی الوقت ان سے ہمارے علاقے کے سمندر کو چھوڑنے کے لیے کہہ رہی ہیں‘۔
جاپان کے وزیر اعظم یوشیکو نودا نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ جاپانی حکومت نے اس مسئلے پر احتجاج درج کرنے کے لیے چینی سفارتکار کو طلب کیا ہے۔
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے جہاز جزیروں کے سفر پر گئے ہیں۔
واضح رہے کہ چین اور جاپان کے درمیان متنازع جزیزوں پر کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے دونوں ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر ٹھنڈے دماغ سے کارروائی کریں۔
دریں اثنا امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا اس ہفتے کے آخر میں چین اور جاپان کے دورے پر جا رہے ہیں۔






























