
کارکنوں کا کہنا ہے کہ جاپانی کشتیاں انکا پیچھا کررہی ہیں
ایک ایسے وقت میں جب ہانگ کانگ کے بعض سماجی کارکن چین اور جاپان کے درمیان متنازع جزیرے پر پہنچ رہے ہیں چین نے خبردار کیا ہے کہ جاپان اس کے شہریوں کی حفاظت کو خطرے میں نہ ڈالے۔
کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق سماجی کارکنوں کی کشتی بدھ کی شام اس متنازع جزیرے پر پہنچنے والی ہے جس کو جاپان میں’سینکاکو‘ اور چین میں ’دیایو‘ کا نام سے جانا جاتا ہے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ جاپانی کشتیاں ان کی کشتی کا پیچھا کر رہی ہیں۔
چین کے مشرقی سمندری علاقے میں واقع اس جزیرے پر گزشتہ مہنیوں میں چین اور جاپان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس جزیرے پر تائیوان بھی اپنا حق جتاتا ہے حالانکہ اس پر جاپان کا قبضہ ہے۔
اپریل کے مہینے میں اس جزیرے پر اس وقت نیا تنازع شروع ہوا تھا جب ٹوکیو کے گورنر شنتارو اشیہار نے یہ کہا کہ وہ عوام کے پیسے سے اس جزیرے کوخرید لیں گے۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی زنہوا کے مطابق وزارات خارجہ کے ترجمان کن گانگ نے ایک بیان میں کہا ہے جزیرے سے متعلق جو بھی پیش و رفت ہو رہی ہے اس پر ان کی حکومت گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ہانگ کانگ کی میڈیا نے سماجی کارکنان کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی کشتی جزیرے سے کچھ میل دور ہے۔
وہیں خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ جاپانی سرحدی حفاظتی دستوں نے علاقے میں سیکورٹی میں اضافہ کیا ہے۔
اے ایف پی نے سرحدی حفاظتی فورس کے ایک اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے ’ہم پوری طرح چوکس ہیں۔ ہم ان سماجی کارکنان کو جاپانی سمندر اور جزیرے میں داخل ہونے سے روکیں گے۔ حالانکہ ہم اس بات کی پوری احتیاط کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ اس دوران ان کے ساتھ کوئی تصادم نہ ہو۔‘
اطلاعات کے مطابق اتوار کو چین کا حامی ایک گروپ جزیرے کے سفر پر جائے گا۔






























