
اخضر براہیمی نے مشترکہ ایلچی کا عہدہ سنبھالتے وقت کہا تھا کہ شام میں امن قائم کرنا تقریباً ناممکن ہوگا
شام کے معاملے پر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر براہیمی دمشق کے اپنے پہلے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے شام کے وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی۔ جمعے کے روز وہ صدر بشار الاسد اور حزبِ مخالف کی قیادت سے بھی ملیں گے۔
اخضر براہیمی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے امن منصوبے کے لیے آئے ایلچی کو بتایا کہ وہ ان کے مشن کی کامیابی کے لیے پر عزم ہیں۔
شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ دو ہزار گیارہ سے جاری تحریک میں ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
دمشق پہنچنے پر امن ایلچی کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک بحران ہے، کسی کو بھی اس سے انکار نہیں۔۔۔ اور یہ ایسا بحران ہے جو بگڑتا جا رہا ہے اور کسی کو اس بات سے بھی انکار نہیں کہ خون خرابے کو روک کر امن کو بحال کرنا ہوگا‘۔
شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزیرِ خارجہ نے اس ملاقات میں زور دیا کہ کسی بھی کوشش کا مقصد شامی عوام کے مفادات ہونا چاہیے۔
اخضر براہیمی شام میں ایران کے سفیر محمد رضا شیبانی سے بھی ملے۔ ایران صدر الاسد کی حکومت کا اہم حامی ہے۔
جمعرات کو حزبِ مخالف نے دعویٰ کیا کہ حکومتی افواج نے شام کے دوسرے بڑے شہر حلب پر جنگی طیاروں سے حملے کیے۔
حلب اور دمشق دونوں شہروں میں کشیدگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
اخضربراہیمی نے مشترکہ ایلچی کا عہدہ سنبھالتے وقت کہا تھا کہ شام میں امن قائم کرنا تقریباً ناممکن ہوگا۔
انہوں نے یہ عہدہ اگست میں سابق ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبہ کی ناکامی کے بعد سنبھالا۔






























