
تائیوان میں ایک وزیر کے اُس بیان نے صفائی پر بحث چھیڑ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لوگوں کو بیٹھ کر پیشاب کرنا چاہیے۔
تائیوان کے ماحولیات سے متعلق امور کے وزیر سٹیفن شین کا کہنا ہے کہ ’اگر مرد عورتوں کی طرح ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ کر پیشاب کریں گے تو مزید صفائی رہے گی۔‘
بی بی سی کی نامہ نگار سڈي سوئی کا کہنا ہے کہ وزیر کے اس بیان نے آن لائن بحث شروع کر دی ہے۔
انتظامیہ اس بارے میں عوام کو مطلع کرنے کے لئے اگلے ہفتے عوامی مقامات پر نوٹس لگائےگي جس میں یہ کہا جائے گا کہ مرد کھڑے ہو کر پیشاب نہ کریں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ پر کئی خواتین نے اس تجویز کی حمایت کی ہے تو کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جو کام وہ اتنے سالوں سے کرنے کے عادی ہیں اب اس عادت کو تبدیل کرنا مشکل ہوگا۔
لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ممکن ہے۔
ماحولیات اور حفظان صحت سے متعلق امور کے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل يوان شاجِنگ کا کہنا ہےکہ ’ہم جاپان اور سویڈن سے سیکھنا چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جاپان میں 30 فیصد مرد بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں۔‘
تائیوان میں معائنہ کار تقریباً ایک لاکھ عوامی بیت الخلاؤں میں ٹيلٹو میں صفائی کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے ہیں اور جن میں زیادہ تر کو اچھے گریڈ ملتے ہیں۔
لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی بہتری کی گنجائش ہے کیونکہ کچھ بیتاخلاؤں میں پیشاب کے چھينٹوں کی وجہ سے بدبو آتی ہے۔
حالانکہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مردوں کو اپنی عادت تبدیل کرنے کے لئے مجبور نہیں کر سکتے۔
اور جہاں تک وزیر سٹیفن شین کی بات ہے ماحولیات کے تحفظ کے ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیر اپنی تجاویز پر عمل کرتے ہیں اور گھر ہو یا پھر عوامی ٹوائلٹ وہ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے ہیں۔






























