مصری قبائل شدت پسندوں کے خلاف

مصر اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحدی علاقے سینا میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوج تعینات کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمصر اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحدی علاقے سینا میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوج تعینات کر رہا ہے۔

اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ مصر کےسرحدی علاقے صحرائے سینا کے مقامی بدو قبائلی سرداروں نے علاقے میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں کی حمایت کی ہے اور علاقے میں سکیورٹی بحال کرنے کے لیے حکومت کی مدد کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

ملک کے وزیر داخلہ احمد جمال الدین سے مذاکرات میں وہ غزہ کی طرف سمگلنگ کے لیے بنائی گئی سرنگوں کو تباہ کرنے پر بھی متفق ہوگئے ہیں۔

حکومت نے علاقے میں موجود اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بڑی تعداد میں فوج، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھیجی ہیں۔

اتوار کو سولہ سرحدی محافظوں کو مارا گیا اور شک ہے کہ انھیں شدت پسندوں نے قتل کیا۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق جمعہ کو نو دہشت گرد گرفتار ہوئے.

احمد جمال الدین قبائلی سرداروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جمعرات کی رات غزہ کی سرحد کے قریب العریش میں ان سے ملے۔ انھوں نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ مقامی لوگوں کی حمایت سے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف مشن کامیاب ہو جائے گا۔

الرشید قبیلہ کے رکن شیخ عاطف زایدنے کہا کہ تمام موجود قبائل نے دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق شیخ عاطف نے کہا کہ’مصر کی سکیورٹی سینا کی سکیورٹی کا حصہ ہے‘۔

ایک دوسرے قبائلی سردار عید ابو مرضوکا نے کہا کہ قبائل کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ سمگلنگ کے لیے بنائی گئی سرنگوں کو بھی ختم کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والی تنظیم حماس اگر اس سے پرشان ہو تو ان کو کوئی پروا نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان رابطے سرکاری طور پر منظور شدہ رفاہ کراسنگ پر ہوں۔

انھوں نے اسرائیل کی طرف سے غزہ کے محاصرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمگلنگ اور محاصرے کے خلاف ہیں۔

مصر اور غزہ کے درمیان سرحد پر سینکڑوں کی تعداد میں سرنگیں ہیں ۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمصر اور غزہ کے درمیان سرحد پر سینکڑوں کی تعداد میں سرنگیں ہیں ۔

مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد پر سینکڑوں کی تعداد میں سرنگیں ہیں جو غزہ کے محاصرے کے دوران سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کی جاتی رہیں اور اس کے ذریعے لوگوں اور اسلحے کو بھی بھیجا جاتا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ جن دہشت گردوں نے گزشتہ اتوار کو حملہ کیا تھا وہ ان سرنگوں کے راستے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

مصر کی خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق فوج نے ان سرنگوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔

تشدد کے تازہ واقعات اتوار کو سرحدی محافظوں پر حملوں سے شروع ہوئے یہ سینا میں مصری فوج کے خلاف کئی دہائیوں میں بڑا واقعہ تھا جں میں سولہ محافظ مارے گئے۔

کچھ اور علاقوں میں بھی حملے ہوئے جس کے بعد فوج نے کارروائی کرتے ہوئے ہیلی کاپٹرز سے میزائل داغے۔

فوج کا کہنا ہے کہ طومہ گاؤں میں تقریباً بیس لوگ ہلاک ہوئے۔

العریش میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا تھا کہ جمعرات کی رات مزید بکتر بند گاڑیاں سرحد کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دیں۔

سینا میں مصری فوج کی تعداد کم ہے ۔ انیس سو اناسی کے معاہدے کے تحت مصر کو اس علاقے میں فوج بھیجنے کے لیے اسرائیل سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اسرائیل نے سینا کے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد مصر کو واپس کر دیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد اس علاقے میں حلات خراب ہو گئے اور شدت پسندوں نے وہاں اڈے قائم کر لیے۔